فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 608
(72) مباہلہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 April 2012 12:58 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیامباہلہ میں اس کے نتبجہ کے لیے مدت مقررکرنی جائز ہے اورکیانتیجہ وہ معتبدبہ ہے جومدت مقررہ کے دوران میں واقع ہو؟ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

روایات مباہلہ جوآیت مباہلہ کے تحت مفسرین نے ذکرکی ہیں ۔ان سے زیادہ سے زیادہ ایک سال مدت مفہوم ہوتی ہے اورجب مدت مقررہوجائے تومعتدبہ نتیجہ بھی  وہی ہے جواس مدت کے اندرہواوراگرمدت گزرکرکوئی نتیجہ نکلے تواس میں یہ احتمال پیداہوتا ہے کہ یہ اتفاقیہ ہے کیونکہ اتفاقات سے بھی دنیاخالی نہیں ہے اگرخداکواس سے صداقت کااظہارمقصودہوتا تو وہ مدت مقررہ میں اس کوظاہرکرسکتاتھا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص157 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)