فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 606
(70) استخارہ اورالہام
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 April 2012 11:55 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الہام اوراستخارہ میں کیافرق ہے اوریہ دونوں دلیل ظنی ہیں یایقینی اوران کی بناء پرکسی شخص کے متعلق نیک یابدحکم لگاناکس طرح ہے؟ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جواستخارہ سے معلوم ہوتاہے وہ بیداری میں ہوتوالہام ہی ہے اورغیرنبی کاالہام دلیل ظنی ہے اور اس میں شیطان کا دخل بھی ممکن ہے اس لیے شریعت کےخلاف ہو تومعتبرنہیں اورکسی پرنیک بد کاحکم بھی اسی درجہ کا ہوگا جس درجہ کا الہام ہے اگرکسی کامل بزرگ کاہے تووہ  زیادہ قابل اعتمادہے  ورنہ معمولی ہے ۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص156 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)