فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 5990
عربی کا مطلب کوئی اردو میں بیان کرنا جائز ہے؟
شروع از بتاریخ : 27 July 2013 09:15 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک  مولوی کہتا  ہے کہ عربی کا مطلب کوئی اردو میں بیان کرے تو وہ مطلق کافر ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عربی کا مطلب اردو میں بیان کرنا جائز ہے۔ قرآن مجید کے ترجمے فارسی۔ اردو۔ میں کئے گئے ہیں۔ اس لئے ایسا شخص مولوی نہیں معلوم ہوتا ہے۔ (25 جمادی الاول 39 ہجری)

شرفیہ

اس مولوی سے پوچھنا چاہیے کہ تو نے قرآ  ن وحدیث کا مطلب کس سے پڑھ کر معلوم کیا ہے۔ یا نہ۔ اگر اباکل معلوم ہی کیا او تو نے خود ہی سمجھ لیا ہے تو کس طرح کیا تو نبی ہے۔ اگر کہے ہاں تو وہ جھوٹا ہے۔ اگر نہیں معلوم کیا تو وہ خود جاہل مطلق ہے۔ اس کی بات کا اعتبار نہیں وہ قرآن وحدیث مدائل شرعیہ کسی کو بتاتا ہے یا نہ اگر بتاتا ہے تو کس زبان میں کن کو سمجھاتا ہے۔ نیز کفر بتانے کی کیا دلیل ہے۔ قرآن شریف میں ہے۔ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ

بس ایسا شخص ہی جاہل مطلق ہے۔ ایسوں ہی کے حق میں ہے۔

ایں کہ مہ بینی غلاف آدم وند          نیست آدم ایں خلاف آدم اند

 


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 351

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)