فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 5981
آج کل لفظ خلافت کا اطلاق صحیح نہیں بیٹھتا
شروع از بتاریخ : 26 July 2013 08:04 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ابو دائود کی حدیث الخلافة(١) بعدي ثلثون سنة (الحديث) سے پتا  چلتا ہے کہ لفظ خلافت کا اطلاق آجکل غلط ہے۔ اورکذب ہے۔ بجائے لفظ خلافت کے سلطنت اسلامی کا لفظ بہتر ہے یا نہیں۔

-----------------------------------

1۔میرے بعد خلافت(راشدہ علی منہاج النبوۃ)صرف تیس سال رہے گی۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خلافت کے معنی ہیں۔ نیابت نبوت یعنی جو بادشاہ قوانین شرعیہ کو نافذ کرے۔ انہی کو اصل ماخذ سمجھے و و خلیفہ ہے۔ خواہ  وہ کسی زمانے میں اور کسی ملک میں ہو  اور جواب نہیں اپنے قوانین الگ بناتا ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ خواہ کسی ملک کا ہو تیس سال تک جو خلافت تھی۔ وہ علی منہاج النبوۃ (کمال درجہ) کی تھی۔اس سے بعد بھی ہوسکتی ہے۔ ہاں آجکل جو خلافت ہے وہ اصطلاح جدید ہے۔ اس کی سند پہلے نہیں پائی جاتی۔ اصل معنی کے لہاظ سے سلطنت اسلامی کہنا موزوں ہے۔(18 شعبان 41ہجری)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 347

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)