فتاویٰ جات: شرح و فوائد
فتویٰ نمبر : 5951
(142) حدیث ابراہیم پر تشریحات
شروع از بتاریخ : 24 July 2013 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فَنَظَرَ‌ نَظرَ‌ةً فِى النُّجومِ ﴿٨٨﴾ فَقالَ إِنّى سَقيمٌ ﴿٨٩﴾ تفسیروں سے معلوم ہوتا ہے کہ میلہ جانے کے عذر پر حضرت ابراہیم ؑ نے ستاروں میں نظر کرکے انی سقیم کہا۔ میلہ تو دن کو ہو تا ہے اورستارے غائب اگر مراد علم نجوم سے ہو تو یہ ممنوع ہے۔ نہ اس وقت ایجاد ہوا ہوگا۔ مطلب اس آیت کا کیا ہے۔ ؟ (شیخ قاسم علی لدھیانوی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بعض میلے رات کے اوقات میں بھی ہوتے ہیں۔ جیسے لاہور میں میلہ چراغاں اور آپ کے لدھیانہ میں میلہ روشنی اس طرح کا میلہ ان مشرگوںکا ہوگا۔ آیت مرقومہ میں دو فعل آئے ہیں۔ ایک نظر دوسرے قال ف محض تعصیب کےلئے ہے۔ یعنی دوسرا فعل پہلے سے پیچھے واقع ہوا ہے۔ جیسے حدیث شریف میں آیا ہے۔ قاء فتوضاء یعنی قے کی اور وضو کیا۔ پس مطلب آیت کا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے آسمان کی طرف نظر کی اس کے بعد کہا میں بیمار ہوں۔ ان دو فعلوں میں علت اور معمول کا تلق نہیں بلکہ محض تعاقب ہے۔ (21 دسمبر 1934ء)

حدیث ابراہیمی پر اعتراض اور جواب

از حضرت العلام مولانا ثناء اللہ صاحب فتاویٰ ؒ

 حدیث شریف میں حضرت ابراہیم ؑ کی بابت ایک حقیقت کا اظہارکیا ہے۔ اس پر بہت سے منکرین حدیث بلکہ بعض قائلین حدیث بھی اعتراض کرتے ہیں۔ جماعت مرزایئہ نے تو آج کل اس کو اپنا سہارا بنا رکھا ہے۔ اس لئے آج ہم اس مشکل کو اپنے ناقص علم کے مطابق حل کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ۔ حدیث شریف مذکورہ کے الفاظ یہ ہیں۔

عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلو لم يكذب ابراهيم عليه الصلواة والسلام الا ثلاث كذبات

''ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین جھوٹ (بخاری شریف ص 474)

معترضین اس حدیث پر دو طرح اعتراض کرتے ہیں ایک اس طرح کے نبی کی شان نہیں کہ جھوٹ بولے۔ دوسرا اس طرح کے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؑ کو صدیق کہا گیا ہے۔ اور حدیث شریف میں ان کے تین جھوٹ بیان ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ حدیث قرآن کے مخالف ہے۔ اور ناقابل قبول ہے۔ مرزائی اس حدیث سے یہ فائدہ بھی لینا چاہتے ہیں۔ کہ ایک دو تین جھوٹوں کے باوجود حضرت ابراہیم ؑ نبی صدیق رہے۔ تو مرزا صاحب کے اگر چند جھوٹ ثابت ہوجایئں تو ان کی نبوت میں کیا خرابی لازم آتی ہے۔ ؟ پس ان سب اعتراضوں کے جواب غور سے سنیے۔ اصل اصول ایسے امور سمجھنے کا وہ حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ انما الاعمال بالنيات یعنی اعمال کا شرعی وجود نیتوں سے ہے۔ جیسی نیت ویسا پھل ۔ مناسب ہے کہ اصل مقصد سے پہلے ایک حدیث بطور مثال پیش کردوں۔ اس مثالی حدیث میں غلط گوئی کی اجازت لے کر صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کیا یک جماعت کارخاص کو جاتی ہے۔ اور کامیاب ہوکر ددربار رسالت میں رپورٹ کرتی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے۔

 قال رسو ل الله صلي الله عليه وسلو من الكعب ابن الاشرف فايه قد اذي الله ورسوله فقام محمد بن سلمة فقال يا رسول الله اتحب ان اقتله قال نعم فاذن لي ان اقول شيئا قال قل فانا محمد بن مسلمة فقال ان هذا الرجل (محمد) قد سالنا صدقة وانه قدعنا نا واين اتيتك استسلفك قال وايضا لتملنه قال انا قد اتبعنا ه فلا لجت ان ندعه حتي فنظر الي اي شئ يصير شانه فقال اناذن لي ان اشم ل سك قال فلما استمكن عنه قال دونكم فقتلوه ثم اتوا النبي صلي الله عليه وسلم فاخبروه (بخاری ص567)

ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہے کوئی جو کعب بن اشرف سے بدلہ لے لے۔ اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ایزا دی ہے۔ یعنی بغاوت پھیلا رکھی ہے۔ یہ سن کر محمد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کردوں۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ تو اس نے کہا کہ پھر آپ ﷺ مجھ کو اجازت دیجیے۔ کہ میں آپ کے حق میں کچھ نا مناسب الفاظ اس کے سامنے کہہ دوں۔ فرمایا کہہ دینا۔ پس محمد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کعب کے پاس آکر کہا کہ اس شخص (محمد ﷺ) نے ہم سے بارہا صدقہ مانگ کر ہم کو تنگ کررکھاہے۔ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے کچھ قرض دیں۔ اس نے کہا کہ آیندہ اتنا مانگے گا کہ تم اس سے تنگ آجائو گے۔ محمد بن سلمہ نے کہا کہ اب تو ہم اس کے پیچھے ہوئے کہ اس کا کیا انجام ہوتاہے۔ ؟ اس گفتگو کے بعد محمد بن سلمہ نے کعب کو کہا کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ آپ ے سر کے بالوں سے خوشبو سونگھوں اس نے کہا ہاں ۔ پس اس نے اس کے سر کو سونگھا اور اپنے ساتھ والوں کو سونگھایا پھر کہا ایک دفعہ اور اجازت دیجئے۔ جب اس نے اجازت دے دی تو اچھی طرح اس کے سر کو پکڑ لیا۔ اور ساتھوں کوآواز دی کہ پکڑ لو۔ پس اس نے اس کو قتل کر کے ددربار رسالت میں اطلاع دی۔

ناظرین

اس حدیث میں صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین نے کعب کے سامنے بحق رسالت جوکچھ کہا وہ قطعا نا درست ہے۔ بلکہ ایمان کے سراسر خلاف ہے۔ مگر کیا کوئی کہے گا کہ انہوں نے واقعی کوئی ایمان ک خلاف کام کیا۔ نہیں تو کیوں نہیں؟ اس لئے کہ دینی مقصد کے لئے اجازت لے کر یہ کام کیا۔ اس واقعہ کو یاد رکھ کر سنیئے۔

1۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جب بُت توڑدییئے۔ تو ان کو ماخوذ کر کے پنچوں کے سامنے لایاگیا۔ اورسوال ہوا کہ تو نے یہ کام کیا۔ تو انہوں نے جوابدیا۔

قالَ بَل فَعَلَهُ كَبيرُ‌هُم هـٰذا فَسـَٔلوهُم إِن كانوا يَنطِقونَ ﴿٦٣

''ترجمہ۔ میں نے نہیں بلکہ ان کے اس بڑے بت نے ایسا کام کیا ہے۔ اگر یہ بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔ ''

 اس کلام میں فعل کا فاعل بڑے بت کو بنایا ہے۔ مگر حقیقت یہ نہیں نہ بڑے بت نے دوسرے کو توڑا نہ مشورہ دیا یا حکم دیا۔

2۔ چونکہ کفار حضرت ابراہیمؑ کو بت خانہ کی طرف لے جانا چاہتے تھے۔ اس لئے انھوں نے بطور معذرت کہا۔ ''انی سقیم'' (میں بیمار ہوں) بقرینہ مقام بیماری سے مراد وہ بیماری ہونی چاہیے۔ جوچلنے پھرنے سے مانع ہو چونکہ آپ کی حالت ایسی نہ تھی۔ لہذا کلام غلط ہے۔

3۔ تیسری بات حدیث میں یہ آئی کہ ایک ظالم حاکم کے سامنے بغرض حفاظت اپنی منکوحہ (بیوی) کواخت (بہن) کہہ کر بچا لیا۔ یہ ہیں وہ تین جملے جن میں سے دو تو قرآن مجید میں مذکور ہیں ایک حدیث میں ہے۔

ان سارے واقعات کے متعلق حضرت ابراہیم ؑ کا کلام حدیث میں یوں منقول ہے۔

اني كذبت ثلاث كذبات (میں نے تین دفعہ جھوت کہا)

مگر رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بغرض بریت فرمایا۔ ما منها كذبة الا ما حل بها عن دين الله (متفق علیہ) یعنی یہ تینوں جھوٹ ایسے تھے کہ ان کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ دینی مواخذہ سے نکل گئے؟

مطلب اس کا یہ ہے کہ دینی کام میں جو ان پر تکلیف آئی تھی ایسا کرنے سے آپ اس تکلیف سے بچ گئے۔ اس لفظ سے پیغمبر ؑ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس طرح جھوٹ کے مواخذہ سے بری ٖظاہر فرمادیا۔ جس طرح کے محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قاتل کعب بن اشرف کو باوجودآلودہ بالکذب ہونے کے کزب سے بچا لیا۔ پس جس طرح محمد بن مسلمہ کا کذب باوجود وقوع پزیر ہونے کے اہل معرفت کے مقولہ سب صحابی رضوان اللہ عنہم اجمعین ثقہ ہیں ک ےخلاف نہیں۔ اسی طرح ابراہیم ؑ باوجود ان واقعات کے صدیقا نبیاً ہیں۔ لاشک فیہ۔

ہاں مرزاقادیانی صاحب کے کزبات ایسے نہیں۔ وہ و اپنے دعوے کے اثبات کے لئے بطوردلیل کے لاتے ہیں۔ جو وقوع پزیر نہیں ہوتے۔ تو منکرین کو دین اسلام پر اعتراض کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پھر اس سے اس کو کیانسبت سوائے اس کے کہ کہہ جائے۔ شیر قالیں وفگر است وشیر نیستاںوگر است

نتیجہ

اس لئےمرزا قادیانی نے اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کو بہت مکروہ الفاظ سے یاد کیا ہے۔ (آیینہ کمالات) (اہل حدیث 25 رمضان 1352ء؁)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 304

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)