فتاویٰ جات: علوم قرآن
فتویٰ نمبر : 5923
ناسخ و منسوخ کی تفصیلات
شروع از بتاریخ : 23 July 2013 08:26 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کا عقیدہ کہ قرآن مجید کے موجودہ تیس پاروں میں کوئی منسوخ الحکم آیت نہیں ہے اور وہ شخص قائلین نسخ کو ضال یا گمراہ بھی نہیں کہتا ہے اور ایک دوسرا شخص قرآن مجید کی بعض آیات کو بعض آیات سے منسوخ الککم قرار دیتا ہے۔   اور نسخ قرآن کے نہ ماننے والے کو  گمراہ اور ضال کہتا ہے۔  ان دونوں میں کون حق پر ہے۔    (ابو سعید عبد الرحمٰن۔  فرید کوٹی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی آیت مخصوصکو منسوخ کہنا منصوص امر نہیں ہے۔  بلکہ مفسر  یا مترجم کا اپنا فہم ہے جو عند التعارض اس کو پیش آتا ہے۔ اس لئے کہ ممکن ہے جو تعارض کی وجہ سےایک مفسر کسی ایت کو منسوخ کہے۔  دوسرا اس تعارض کو اور طرح سے رفع کر لے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے فور الکبیر میں اس کے متعلق کافی روشنی ڈالی ہے۔ کوئی عالم صحیح معنوں میں قرآن کی آیت منسوخہ میں تطبیق دے سکے اور وہ تطبیق کسی دوسری آیت یا حدیث  کے خلاف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں بلکہ فعل ممدوح ہے۔  اس لئے نسخ کے بارے میں اتنا تشدد کرنا اچھا نہیں ہے۔  واللہ اعلم  (5 نومبر 1937ء)

 

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 222

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)