فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 5838
محمد نام رکھنا
شروع از بتاریخ : 13 July 2013 10:56 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ہم اپنے بچے کا نام محمد رکھ سکتے ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں آپ اپنے بچے کا نام محمد رکھ سکتے ہیں۔ بچے کا نام سوچ سمجھ کر علماء کرام سے مشورہ کرکے رکھنا چاہئے ۔نام شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کے اچھے نام رکھنے چاہئیں کہ بروز قیامت یہ نام پکاریں گے جائیں گے اور بچہ باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔ سنن ابودائود،مسنداحمد،صحیح ابن حبان،السنن الکبری للبیہقی،شعب الایمان للبیہقی،سنن دارمی میں حدیث پاک ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بسند جید روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«انکم تدعون یوم القیامة باسماء کم واسماء اٰباء کم فاحسنوا اسماء کم »

ترجمہ: بے شک تم روز قیامت اپنے اور اپنے والدو ں کے نام سے پکارے جاؤگے تو اپنے نام اچھے رکھو۔

(سنن الدارمی،کتاب الاستئذان،باب فی حسن الأسماء ،جلد2،صفحہ380،دار الکتاب العربی ،بیروت) ۔

امام بخاری الادب المفرد میں حدیث پاک نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

«تسمّوا باسماء الانبیاء»

ترجمہ: انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھو۔

(الادب المفرد،باب احب الاسماء الی اللہ عزوجل ،جلد1،صفحہ284،دار البشائر الإسلامیۃ ،بیروت)

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)