فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 5832
بیوی کی دبر میں جماع کرنے کا حکم
شروع از بتاریخ : 13 July 2013 10:11 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی مرد اپنی بیوی سے پاخانے کی جگہ میں جماع کرے تو اس کا کفارہ کیا ہوگا ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیوی کے پاخانے کی جگہ جماع کرنا ایک حرام اور ملعون عمل ہے،جس سے نبی کریم نے منع فرمایا ہے،اور ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جوبھی اپنی بیوی کی دبر میں وطی کرے وہ ملعون ہے ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2162 ) اسے علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

یہ توتھی اس شخص پر لعنت جواپنی بیوی کی دبر میں وطی کرے توجوکسی اجنبی عورت کی دبر میں کرے اس کے بارہ میں کیا ہوگا ؟

ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جوشخص کسی حائضہ عورت یا پھر عورت کی دبر میں وطی کرے یا کسی کاہن کے پاس جاۓ تواس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ ( دین ) کے ساتھ کفر کا ارتکاب کیا ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 135 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ترمذي میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

اوراگر خاوند اپنی بیوی کے ساتھ دبرمیں وطی کرنے پر اتفاق کرلیں اور تعزير لگاۓ جانے کے باوجود بھی باز نہ آئيں توان دونوں کے درمیان علیحدگی کردی جائے گی ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گيا :

ایسے شخص کا کیا حکم ہے جواپنی بیوی سے دبرمیں وطی کرتا ہے ؟

توان کا جواب تھا :

کتاب وسنت کے مطابق عورت کی دبرمیں وطی کرنا حرام ہے ، اورجمہورعلماء سلف اوربعد میں آنے والوں کا بھی یہی قول ہے ، بلکہ یہ لواطت صغری ہے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمايا :

( بلاشبہ اللہ تعالی حق بیان کرنے سے نہيں شرماتا ، تم اپنی بیویوں کی دبر میں وطی نہ کیا کرو ) ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

’’ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں ، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ ‘‘ البقرۃ ( 223 ) ۔

اورکھیتی بچے کی جگہ ہے کیونکہ کھیتی کاشت اوربونے کی جگہ ہوتی ہے ، اوریھودیوں کا کہنا تھا کہ جب خاوند بیوی کی دبر میں وطی کرے تواولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے تواللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی ، اورمرد کے لیے مباح قرار دیا کہ عورت کی فرج میں جس طرف سے مرضی جماع کرے ۔

اورجس نے بھی بیوی کی دبر میں وطی کی اوربیوی نے بھی اس کی اطاعت کی تودونوں کوتعزیر لگائی جاۓ گی ، اوراگر تعزیر کے بعد بھی وہ باز نہ آئيں توجس طرح فاجراورجس کے ساتھ فجور کا ارتکاب کیا گیا ہوان کے درمیان علیحدگی کردی جاتی ہے اسی طرح ان دونوں کے درمیان بھی علیحدگي کردی جاۓ گی ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری ( 3 / 104 - 105 ) ۔

اس قبیح اور حرام عمل کے ارتکاب پر کوئی کفارہ تو نہیں ہے ،ہاں البتہ گناہ کبیرہ ہونے کی وجہ سے آپ کو جلد از جلد اللہ تعالی سے توبہ کرنی چاہئے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرنا چاہئے۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)