فتاویٰ جات: گوشئہ اطفال
فتویٰ نمبر : 58
بچوں کو سمجھانے کی خاطر جھوٹ بولنا
شروع از بتاریخ : 21 September 2011 10:23 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ہم ضدی بچوں کو سمجھانے کے لئے جھوٹ بول سکتے ہیں ۔؟


 الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد

نہیں ! ایسا کرنا جاءز نہیں ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ

«من قال لصبی تعال هناك ثم لم یعطه فهی کذبة»۹۶۲۵

جس نے کسی بچے سے کہا کہ ادھر آو یہ لے لو اور پھر اسے وہ نہ دیا جس کے لیے اس نے اسے بلایا تھا تو یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔

اس روایت کو شیخ شعیب ارنووط نے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

اور جھوٹ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔

 
ھذا   ما عندی  واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)