فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 5597
مزارات اولیائے... کسی دوسرے مقصد دنیاوی کے چلہ کرنا کیسا ہے،
شروع از بتاریخ : 05 July 2013 09:07 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ مزارات اولیائے عظام پر بامید صحت یابی یا دفع خبائث یا برانے کسی دوسرے مقصد دنیاوی کے چلہ کرنا کیسا ہے، اس مسئلہ کاجواب کتب معتبرہ سے زبان اُردو میں  تحریرفرما دیں اور جو عبارت کتاب کی ہو، اس کا ترجمہ بھی نیچے کریں تاکہ عوام کو نفع ہو۔بینوا توجروا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ ہے کہ اولیاء کے مزاد کے پاس جاکر دعائے حاجت یاچلہ کرنا کہ مؤثر الی الاجابۃ و حاجت روا ہو، غیر مشروع ہے کیونکہ شارع کی طرف سے امر و اذن نہیں پایاگیا اورنہ صحابہ و تابعین وغیرہم رضی اللہ عنہم سے منقول ہے، بلکہ ممنوع و محظور ہے شرعاً من[1] عمل عملا لیس علیہ امرنافہورد کما رواہ البخاری و کرہ مالک ان یقول زرنا قبرہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و عللوہ بان لفظ الزیارۃ صارمشتر کابین ما شرع ومالم یشرع فان منہم من قصد بزیارۃ قبورالانبیاف والصلحا ان یصلی عند قبورہم و یدعو عندھا ویسالھم الحوائج وھذا لا یجوز عند احد من العلماء المسلمین فان العبادۃ و طلب الحوائج والاستعانۃ حق اللہ وحدہ انتہی ما فی مجمع  البحار للشیخ العلامۃ المحدث ابن طاہر الفتنی ہرمسلم دیندار شریعت شعار پر فرض ہے  کہ ایاک نعبد وایاک نستعین پر متوجہ بدل رہے۔

وقال[2] اللہ تعالیٰ واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان الایۃ وقال [3] اللہ تعالیٰ امن یجیب المضطرا ذا دعاہ ویکشف السوئ الایۃ ومن یرزقکم من السماء والارض أ الہ مع اللہ قل ھاتو برھانکم ان کنتم صادقین الایۃ ومن یرزقکم من السماء والارض وغیرہا من الایات الدالۃ علی ان لا یدعو ولا یسأل الحوائج من غیراللہ تعالیٰ کما لا یخفی علی من تأمل و تدبر القرآن المجید۔

آن نیاز مرہمی بود است و درد

کان چنان طفلی سخن آغاز کرد

ہرکجا دردے دوا آن جابود

ہر کجا فقرے نوا آنجا بود

قال [4]اللہ تعالیٰ ولا تکونوا کالذین اوتوا الکتاب من قبل فطال علیہم الامد فقست قلوبہم و کثیرمنہم فاسقون الایۃ۔

دلے کز نور رحمٰن نیست روشن

مخوانش دل کہ ان سنگ است و آہن

دلے گز گرد غفلت زنگ دارد

از آن دل سنگ و آہن ننگ دارد

مجالس الابرار میں  مذکور ہے ۔ اما[5] الزیارۃ البدعیۃ فھی زیارۃ القبور لاجل الصلوٰۃ عندھا والطواف لھا وتقبیلہا و استلامہا و تعفیر الخدود علیہا واخذ ترابہا و دعاء اصحابہم والاستعانۃ و سوالہم النصر والرزق والعافیۃ والولد و تفریج الکربات واغاثۃ اللہفان وغیر ذلک من الحاجات التی کان عبادا الاصنام یتساءلون من اصناہم فان اصل ہذہ الزیارۃ البدعیۃ ماخوذ منہم ولیس بشئ من ذلک مشروعا باتفاق علماء المسلمین اذ لم یفعلہ رسول رب العلمین ولا احد من الصحابۃ والتابعین و سائر ائمۃ الدین انتہی ما فی مجالس الابرار مختصراً۔

ومولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی تحت آیت کریمہ فلا تجعلوا اللہ انداداً کے اپنی تفسیر میں  افادہ کرتے ہیں کہ  مشرکین میں  سے چوتھا فرقہ پیر پرستوں کا ہے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جب آدمی کثرت ریاضت کی وجہ سےمقبول الشفاعت اور مستجاب الدعوات ہوجاتا ہے تو جب وہ اس جہان سے چلا جاتا ہے تو اس کی رو ح کو بہت زیادہ قوت نصیب ہوجاتی ہے پھر جو کوئی اس کا تصور کرے یااس کی نشست و برخاست کی جگہ پر جاکرسجدہ کرے تو وہ اس سے مطلع ہوجاتے ہیں اور دنیا و آخرت میں  اس کے حق میں  شفاعت کریں گے۔

و قاضی شہاب الدین دولت آبادی صاحب تفسیر بحر مواج در عقیدہ اسلامیہ در بیان الفاظ کفر نوشتہ۔ شریعت کو ٹھٹھا کرنا، اس کی توہین کرنا اور مرُدوں سے حاجات طلب کرنا یہ سب کفر کے کلمات ہیں۔ تفسیر نیشاپوری اورمعالم التنزیل میں  ہے کہ استعانت عبادت کی ایک قسم ہے اور سلف صالحین میں  سے کوئی بھی انبیاء اور غیر انبیاء کی قبروں پر  دعا کرنے کے لیے نہیں جایا کرتا تھا بلکہ صحابہ تو آنحضرتﷺ کی قبر پر بھی نہیں جایا کرتے تھے وہ صرف آنحضرتﷺ اور شیخین پر درود  اورسلام  کہاکرتے تھے۔                          (طلب حسنیین سید محمد نذیرحسین)



[1]    جو کوئی ایسا کام کرے جس پر ہمارا حکم نہ  ہو، وہ کام مردود ہے۔ امام مالک  اس قول کو کہ ’’ہم نے نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کی‘‘ مکروہ سمجھتے تھے، کیونکہ  ’’زیارت‘‘ کالفظ مشروع اور غیر مشروع طریقوں میں  مشترک ہوگیا ہے۔ بعض لوگ انبیاء اور صلحاء کی قبروں پر جاتے ہیں، وہاں قبر کے پاس جاکرنماز پڑھتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں اور یہ کام کسی بھی مسلمان عالم کے نزدیک جائز نہیں ہے، کیونکہ عبادت اور  طلب حاجات اور استمداد صرف اللہ کا حق ہے۔

[2]     جب تم سے میرے بندے میرےمتعلق سوال کریں تو آپ کہہ دیں ، میں  قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعاء کو فوراً قبول  کرتا ہوں۔

[3]   بے قرار جب دعا کرتا ہے تو اس کی دعا کو کون  سنتا ہے او کون تکالیف کو دور کرتا ہے۔ الایۃ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ، آپ کہیں کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ  آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ کے سوا نہ کسی کو پکارا جائے ، نہ سوال کیا جائے ۔

[4]    تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاناجن کوتم سے پہلے کتاب ملی تھی، ان کومہلت زیادہ ملی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں  سے اکثر فاسق ہیں۔

[5]   اگر کوئی آدمی کسی  قبر کے پاس نماز پڑھے ، طواف کرے، اس کوسلام کرے، بوسے دے، اپنےرخسارے اس پر ملے، اس کی مٹی برکت کےلیے لے لے اور قبر والے سے دعا کی درخواست کرے اس سے مدد مانگے ،رزق، عافیت ، اولاد، تکلیفوں کے دور کرنے کی درخواست کرے تو یہ  زیارت بدعیہ ہے۔ بت پرست لوگ اپنے بتوں پر جاکر یہی کچھ تو  کیاکرتے تھے اور یہ بدعت زیارت انہی لوگوں سے حاصل کی گئی ہے اور باتفاق علمائے مسلمین یہ کام غیر مشروع ہیں، کیونکہ آنحضرتﷺ ، صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین اور دین کے ائمہ میں  سے کسی نے بھی یہ کام نہیں کئے۔

 


فتاوی نذیریہ

جلد 01 ص 203

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)