فتاویٰ جات: توحید
فتویٰ نمبر : 544
(949) کلمہ گو مشرکین کو دعوت توحید دینے میں مشکلات
شروع از بتاریخ : 10 April 2012 02:42 PM
> بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
> میں ایک بہت بڑی الجھن میں ہوں ،وہ یہ کہ ہم جب کسی ایسے
> کلمہ گو مسلمان کو دعوت توحید دیں جس نے اپنا عقیدہ ظلم
> (شرک) کے ساتھ آلودہ کر رکھا ہو تو ان کی طرف سے اہل سنت و
> الجماعت اہلحدیث پر "خوارج" کا الزام لگایا جاتا ہے،اور
> کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ کافروں کے بارے میں نازل کی گئی
> آیتوں کا اطلاق کلمہ گو مسلمانوں پر کرتے ہیں،اور جب ان
> کو قرآن کریم کی آیات دکھائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ
> کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ،محمد رسول اللہ ﷺ کی
> اُمت تو شرک کر ہی نہیں سکتی۔تو شیخ اس بات کا کیا جواب
> دیا جائے اور کس طرح اس قسم کے لوگوں کو سمجھایا جائے۔
> جزاک اللہ خیرا
> وعلیکم السلام اسلامی عقائد و نظریات کی دعوت دینا،
> توحید باری تعالیٰ کا پرچار کرنا اورشرکیہ وکفریہ اور
> باطل نظریات کی تردید کرنا اور شرک وبدعات میں مبتلا عوام
> کی اصلاح کے لیے محنت و کوشش کرنا مستحسن فعل اور انبیاءو
> رسل کا منہج ہے۔علماء و صحلحا ء کو اس فریضہ سے ضرور عہدہ
> برآء ہونا چاہیے ،لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ کچھ دعوت
> دین کے شوقین نوخیز مبلغین جو عقائد ونظریات کی تعلیما ت
> میں راسخ نہیں ہوتے ،وہ فرط جذبات میں پڑی باتیں کہ جاتے
> ہیں اور کفر وشرک کے دایرہ کارسے باہر ہی نہیں آتے ،جس سے
> دعوت کاسلسلہ رک جاتا ہے اور عامۃ الناس ایسے مبلغین کی
> بات سننا ہی گوارا نہیں کرتے۔ اس لیے ایک تو توحید کی دعوت
> دینے والے کو عقیدہ کے مسائل پرعبور ہونا چاہیے اور دوسرا
> اسلوب دعوت میں نرمی اور شائستگی ہونی چاہیے ۔دوسرا عامۃ
> الناس میں پھیلی یہ گمراہی کہ امت مسلمہ میں شرک کا وجود
> ہی ناپید ہے ،یہ نظریہ واعتقاد کتاب وسنت کی تعلیمات اور
> علمائے اہل السنہ کی آراء کے متصادم ہے ،بلکہ کتاب وسنت
> کے دلائل کی رو سے جس سابقہ امتیں عقیدہ توحید ترک کرنے
> اور شرکیہ و کفریہ اعمال حیطہ عمل میں لانے کی وجہ سے شرک
> و کفر کا مرتکب ہو کر درگاندہ راہ ہوئیں ،ایسے ہی امت
> مسلمہ پھی شرک و کفر کاارتکاب کرنے سے مشرک و کافر قرار
> پائے گی ،نیز کتاب وسنت کےدلائل میں کہیں بھی مذکور نہیں
> کہ امت مسلمہ شرک کی مرتکب نہیں ہوسکتی ۔اس کے برعکس کتاب
> وسنت کے دلائل میں یہ وضاجت موجود ہے کہ امت مسلمہ شرک کی
> مرتکب ہوسکتی ہے۔دلائل حسب ذیل ہیں۔(1)اللہ تعالی نے امت
> مسلمہ کو شرک کی ﷫سنگینی سے آگاہ کرنے کی غرض سے اٹھارہ
> انبیاء کے ایک ساتھ ذکر کرنے کے بعد فرمایا:’’لو اشركوا
> لحبط عنهم ما كانوا يعملون‘‘(الانعام:88)اوراگر
> وہ(انبیاء)شرک کرتے تو ان سے وہ چیز اکارت جاتی جو وہ عمل
> کرتے ہیں۔آیت کی تفسیر ۔غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب
> لکھتے ہیں کہ اس آیت میں انبیاء علیہم السلام کی امتوں کے
> لیے تعریض ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام سے بھی اللہ
> تالیٰ نے فرما دیا کہ اگر انہوں نے بالفرض شرک کیا توان کے
> نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے تو ان کی امتیں کس گنتی ، شمار
> میں ہیں۔(تبیان القرآن:3/293)(2)حافظ صلاح الدین یوسف رقم
> طراز ہیں:پیغمبروں سے شرک کا صدور ممکن نہین،مقصد امتوں
> کو شرک کی خطرناکی اورہلاکت سے آگاہ کرنا ہے ۔(تفسیر احسن
> البیان:) 359) (2)دوسے مقام پر فرمایا:’’وَلَقَدْ أُوحِيَ
> إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ
> أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ
> مِنَ الْخَاسِرِينَ ‘‘(الزمر:65)اور بالتحقیق آپ کی طرف
> اور ان لوگوں کی طرف وحی کی گئی جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر
> آپ نےشرک کیا تو آپ کے عمل ضرور ضائع ہوں گے اور آپ ضرور
> خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے ۔اس آیت کی تفسیر میں
> غلام رسول سعیدی بریلوی رقم طراز ہیں:اس آیت میں تعریض ہے
> ،ذکر آپ کا ہے اور مراد آپ کی امت ہے ۔یعنی اگر بالفرض آپ
> نے بھی شرک کیا توآپ کے اعمال ضائع ہو جائیں گے تو اگر آپ
> کی امت کے کسی شخص نے شرک کیا تو اس کے اعمال توبطریق
> اولیٰ ضائع ہو جائیں گے۔(تبیان القرآن:10/293)۔یہ آیت دلیل
> ہیں کہ شرک انتہائی مہلک گناہ ہے اور امت مسلمہ کے کسی فرد
> سےشرک کا ارتکاب اس کے سابقہ اعمال کی تباہی کا باعث اور
> ہلاکت و بربادی کاشاخسانہ ہے۔(3)آیندہ آیت واضح نص ہے کہ
> اہل ایمان سے شرک کا ظہور ممکن ہے اور کامیا ب وہ مسمان
> ہوں گے جو شرک کی آلائش سے پاک ہوں گے ۔اللہ تبارک و
> تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:’’ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ
> يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ
> الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ۔(الانعام:82)وہ لوگ جو
> ایمان لائے اوراپنے ایمان کو ظلم کے ساتھت ملتبس نہ کیا
> انہی کے لیے امن ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔اس آیت میں
> ظلم سے مراد شرک ہے ،اس کی وضاحت آیندہ حدیث میں ہے’’عبد
> اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں :جب یہ آیت نازل ہو ئی
> ’’الذين امنوا, و لم يلبسوا ايمانهم بظلم ‘‘تو اصحاب
> رسولﷺ پر یہ بات شاق گزری اور انہوں نے عرض کیا :ہم میں سے
> کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا ؟اس پر رسول اللہ ﷺ
> نے فرمایااس سے وہ مراد (عام ظلم)نہیں جو تم سمجھ رہے ہو
> ،اس(ظلم)سے مراد شرک ہے۔کیا تم نے لقمان کی وہ نصیحت نہیں
> سنی جو وہ اپنے بیٹے کو کر رہے تھے’’یٰبنی لا تشرک باللہ
> ان الشرک لظلم عظیم‘‘ایے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک مت کرنا
> ،بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔(صحیح بخاری :3429،صحیح
> مسلم:124)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ امت مسلمہ سے شرک کا
> ارتکاب ممکن ہے اور روز قیامت وہی مسلمان کامیاب قرار
> پائے گا جو شرک کی نحوست سے محفوظ ہوا اوراس آیت کے مخاطب
> مسلمان ہی ہیں تبھی تو صحابہ کرام اس آیت کے نزول سے کبیدہ
> خاطر ہو ئے ۔اس میں ان لوگوں کے نظریہ کا رد ہے جو کہتے ہیں
> کہ وہابی ان آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہیں جو
> کفارکےلیےنازل ہوئی ہیں،جب کہ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام
> اس آیت کا مخاطب مسلمانوں ہی کو سمجھ رہےہیں۔(4)فرمان باری
> تعالیٰ ہے:’’فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ
> الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (30)
> حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ وَمَنْ
> يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ
> السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ
> الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ)الحج:30،31)پس تم بتوںکی
> پلیدگی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو اس حال میں کے
> اللہ کے لیے یکسو ہو اور اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ ہو
> اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کر ے تو گویا ہو آسمان سے گرا
> اور پرندے نے اسے اچک لیا یا ہوا نے اسے کسی دور جگہ پھنیک
> دیا۔(5)آیندہ آیت کریمہ میں پھی اللہ تعالیٰ صالح مو منین
> کو شرک سے ممانعت کا حکم دے رہے ہیں-اللہ تعالیٰ
> ارشادفرماتے ہیں:فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا
> صالحا و لا يشرك بعبادة ربه احدا‘‘(الکہف :110) چنانچہ جو
> شخص اپنےرب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو وہ نیک عمل کرے
> اوراپنے رب کی عبادت کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے-( درج
> آیت واضح دلیل ہے کہ اہل ایمان شرک کا نہ صرف ارتکاب کرتے
> ہیں ،بلکہ دعویٰ ایمان کے باوجود نام نہاد مسلمانوں کی
> اکثریت میں شرک موجود ہی رہتا ہے۔فرمان باری تعالیٰ
> ہے’’و ما يؤمن اكثرهم بالله الا و هم مشركون‘‘(یوسف
> :106)اور ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے مگر وہ اللہ کے
> ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ۔ان کے علاوہ کئی قرآنی آیات جو اس بات
> کی شاہد ہیں کہ امت مسلمہ سےشرک کا ارتکاب ممکن ہے اور
> جیسے گزشتہ امتیں شرک و کفر کے ارتکاب کی وجہ تباہ وبرباد
> ہوئی تھیں ،امت مسلمہ میں بھی شرک کا وجود ان کی تباہی و
> بربادی کا باعث ہوگا ۔ذیل میں و ہ احادیث ذکر کی جائیں گی
> جن میں امت مسلمہ کےشرک کے مرتکب ہونے کے دلائل ہیں۔(1)عبد
> اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:«
> مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ
> » . وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ
> شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ .جو شخص اس حال میں فوت ہو اکہ
> اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا ہو تو آگ میں داخل
> ہوگا اور میں(ابن مسعود )کہتا ہوں:جو شخص اس حال میں مرا کہ
> اس نے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہو تو و ہ جنت میں
> داخل ہوگا۔(صحیح بخاری :1238،صحیح مسلم:92)۔جابر بن عبد اللہ
> سےمروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوسنا ،آپ نے فرمایا: «
> مَنْ لَقِىَ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ
> الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ
> النَّارِ ».جو شخص اللہ تعالی کو اس حال مین ملا کہ وہ اس
> کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کرتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا اور
> جس نے اللہ سے اس حالت میں ملاقات کی کہ اس کے ساتھ کچھ شرک
> کرتا ہو ا تو آگ میں داخل ہوگا۔(صحیح مسلم:93)۔(3)ابو ہریرہ
> سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:« لِكُلِّ نَبِىٍّ
> دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِىٍّ
> دَعْوَتَهُ وَإِنِّى اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِى شَفَاعَةً
> لأُمَّتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِىَ نَائِلَةٌ إِنْ
> شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِى لاَ يُشْرِكُ
> بِاللَّهِ شَيْئًا »ہر نبی کی ایک دعا ہے جسے شرف قبولیت
> بخشا جاتا ہے ،چنانچہ ہر نبی نے اپنی دعوت کو عجلت میں
> کرلیا ہے ،لیکن میں نے اپنی دعا کو روز قیامت کو اپنی امت
> کےلیے بطور سفارش چھپایا ہے پس وہ ان شاء اللہ وہ میری امت
> میں سے ہراس شخص کو پہنچے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک
> نہ ٹھہراتا ہو۔(صحیح مسلم:199).(4)ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ
> رسول اللہ ﷺنے فرمایا:« « لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى
> تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِى
> الْخَلَصَةِ ». وَكَانَتْ صَنَمًا تَعْبُدُهَا دَوْسٌ
> فِى الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ.اس وقت تک قیامت قائم
> نہ ہوگی حتی کہ ذو الخلصہ (بت )کے گرد دوس قبیلہ کی عورتوں
> کی سرینیں حرکت کریں گی۔اور ذو الخلصہ ایک بت تھا دور
> جاہلیت میں قبیلہ دوس اس کی پرستش کرتا تھا۔(صحیح
> بخاری:7116صحیح مسلم:2906):5)عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ
> رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: « لاَ يَذْهَبُ اللَّيْلُ
> وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللاَّتُ وَالْعُزَّى ».
> فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَظُنُّ
> حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ (هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ
> رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ
> عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ)
> أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا قَالَ « إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ
> ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ
> رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِى قَلْبِهِ
> مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَى
> مَنْ لاَ خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ
> آبَائِهِمْ ». دن رات کا سلسلہ ختم نہ ہوگا حتیٰٰکہ لات
> ومنات کی عبادت ہو نے لگے گی ۔اس پر میں نے عرض کیا :یارسول
> اللہ!میں سمجھتی تھی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی
> ہے’’وہ ذات جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ
> بھیجا تاکہ و ہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے ،اگرچہ
> مشرکین اسے نا پسند کریں‘‘تو یہ آیت تام ہے (یعنی امت میں
> دوبار ہ شرک نہ ہوگا)آپ نے فرمایا:جب تک اللہ تعالیٰ کی
> مشیت ہوگی یہی صورت حال ہوگی ،پھر اللہ تعالیٰ ایک خوش
> گوار ہوا بھیجیں گے تو جس کے دل میں رائی کے دانے برابر
> ایمان ہوگا و ہ فوت ہو جائے گا ،پھر وہ لوگ باقی بچیں گے جن
> میں ذرا خیر نہ ہوگی تووہ اپنے آباء کے دین (شرک)کی طرف پلٹ
> جائیں گے۔(صحیح مسلم :2907)مذکورہ احادیث واضح دلیل ہیں کہ
> امت مسلمہ میں شرک کا وجود نہ صرف ممکن ہے ،بلکہ امت مسلمہ
> کے کئی قبائل وافرادشرک کا ارتکاب ہی کریں گے اور قرب
> قیامت مسلمانوں کی اولادشرک کے ارتکاب ہی کی وجہ سے ظہور
> قیامت کی راہ ہموار کرے گی ۔امت مسلمہ میں شرک کا وجود عہد
> صحابہ ہی میں شروع ہوگیا تھااور مرور زمانہ کے ساتھ مختلف
> تاویلات و تحریفات کے سہارے شرکیہ عقائد مسلمانوں میں
> راسخ ہو تے رہے اور مذہب کی آڑمیں اس کی مسلسل ترویج ہوتی
> رہی ،بالآخر بعض متجددین نے امت مسلمہ سے شرک کو شجر
> ممنوعہ قرار ت دے دیا ،لیکن وہ شرکیہ عقائد و نظریات جن کے
> ارتکاب سے سابقہ امتیں زوال ونامرادی کاشکار ہوئی تھیں
> ،اگر امت مسلمہ وہی عقائد ونظریات اختیار کرے گی تویہ بھی
> درگاندہ را ہ ٹھہرے گی۔اس کی مزید تو ضیح حالی کے ان اشعار
> سے ہوتی ہے’’کرے غیر بُت کی پوجا تو کافر جو ٹہرا ئے بیٹا
> خداکا تو کافر جھکے آگ پر بحرِ سجدہ تو کافر کواکب میں
> مانے کرشمہ تو کافر مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں پرستش
> کریں شوق سے جس کی چاہیں نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
> اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں مزاروں پی دن رات نظریں
> چڑھائیں شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں نہ توحید میں
> کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے. مسلمانوں
> کا موجودہ دوغلا پن اور شرکیہ وکفریہ اعتقادات و اعمال
> دیکھ کر ایک ہندو شاعر پھٹ پڑتا ہے اور زبان حال سے یوں
> گویا ہوتا ہے۔’’ ایک ہی پربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں
> ایک ہی در پر مگر سر آپ بھی دھرتے نہیں اپنی سجدہ گاہ دیوی
> کا اگر استھان ہے آپ کے سجدوں کا مرکز ’قبر ‘ جو بے جان ہے
> اپنے معبودوں کی گنتی ہم اگر رکھتے نہیں آپ کے مشکل کشاؤں
> کو بھی گن سکتے نہیں ’’جتنے کنکر اتنے شنکر‘‘ یہ اگر
> مشہور ہے ساری درگاہوں پہ سجدہ آپ کا دستور ہے اپنے دیوی
> دیوتاؤں کو اگر ہے اختیار آپ کے ولیوں کی طاقت کا نہیں
> حدوشمار وقتِ مشکل ہے اگر نعرہ مرا ’ بجرنگ بلی آپ بھی
> وقتِ ضرورت نعرہ زن ہیں ’یاعلی‘ لیتا ہے اوتار پربھو
> جبکہ اپنے دیس میں آپ کہتے ہیں ’’خدا ہے مصطفٰے کے بھیس
> میں‘‘ جس طرح ہم ہیں بجاتے مندروں میں گھنٹیاں تربتوں پر
> آپ کو دیکھا بجاتے تالیاں ہم بھجن کرتے ہیں گاکر دیوتا کی
> خوبیاں آپ بھی قبروں پہ گاتے جھوم کر قوّالیاں ہم چڑھاتے
> ہیں بتوں پر دودھ یا پانی کی دھار آپ کو دیکھا چڑھاتے مرغ
> چادر ،شاندار بت کی پوجا ہم کریں، ہم کو ملے’’نارِ سقر
> آپ پوجیں قبر تو کیونکر ملے جنّت میں گھر؟ آپ مشرک، ہم بھی
> مشرک معاملہ جب صاف ہے جنّتی تم،دوزخی ہم، یہ کوئی انصاف
> ہے مورتی پتّھر کی پوجیں گر! تو ہم بدنام ہیں آپ’’سنگِ
> نقشِپا‘‘ پوجیں تو نیکو نام ہیں کتنا ملتا جلتا اپنا آپ
> سے ایمان ہے ’آپ کہتے ہیں مگر ہم کو ’’ تو بے ایمان ہے ‘
> شرکیہ اعمال سے گر غیر مسلم ہم ہوئے پھر وہی اعمال کرکے آپ
> کیوں مسلم ہوئے ہم بھی جنّت میں رہیں گے تم اگر ہو جنّتی
> ورنہ دوزخ میں ہمارے ساتھ ہوں گے آپ بھی ہے یہ نیّر کی صدا
> سن لو مسلماں غور سے اب نہ کہنا دوزخی ہم کو کسی بھی طور سے
> (اوم پر کاش نیّر، لدھیانوی ) رہا اہل حدیث کو خوارج کہنا
> تو یہ نری جہالت اور فرقہ خوارج کےعقائد ونظریا ت سے
> لاعلمی کا نتیجہ ہے ،خوارج اور اہل حدیث کے عقائد میں
> زمین و آسمان کا فرق ہے ۔اگر فرق باطلہ کے کفر و شرک اور
> بدعات کو طشت ازبام کرنا خوارج سے مشابہت کا سبب ہے تو
> فریضہ حق علما حق بیان کرتے آئے ہیں اورکرتے رہیں گے ،جب
> کہ اندر کی بات یہ ہے کہ ان معترضین کے امام موصوف امت
> مسلمہ کے دیگر فرقوں کو کافر ومرتد قرار دینے اور انہیں
> مطعون کرنے میں خاص ملکہ رکھتے اور چہار عالم میں شہرت
> خاص رکھتے ہیں ۔اس لیے بےتکے دلائل اور بلاوجہ مسلمانوں
> کو کافر قرار دینے میں یہ خوارج سے زیادہ مناسبت رکھتے
> ہیں۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 

 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)