فتاویٰ جات: فہم حدیث
فتویٰ نمبر : 537
(03) ناجی گروہ کون ہے کل مسلمان یا کوئی خاص گروہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2012 11:58 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ناجی  گروہ کون ہے؟ کل مسلمان یا ان میں سے کوئی خاص  گروہ مراد ہے۔ حدیث

(ماانا عليه واصحابی)

 کا کیا مطلب ہے؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ناجی گروہ خاص ہے۔ جس کی پہچان نبیﷺ  نے 

(ما انا عليه واصحابی)

بتلائی ہے۔

(ما انا عليه واصحابی)

کا مطلب ذرا تفصیل چاہتا ہے یہا ں اس مسئلہ کو مختصر ذکر کرتے ہیں تفصیل کی گنجائش نہیں اگر تفصیل مطلوب  ہو تو ہمارا رسالہ حق وباطل کا معیار ملاحظہ فرمایا جائے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل بہتر فرقے ہوگئے میری امت تہتر فرقے ہو جائے گی سب جہنمی ہیں صرف ایک فرقہ جنتی ہو گا۔  صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پو چھا  یا رسول اللہ ! وہ کونسا ہے؟ فرمایا:

(ما انا عليه واصحابی)

جس پر میں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ اس حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرقہ حقہ کا معیار دو چیزیں بتلائی ہیں:
ایک اپنی ذات بابرکات ، دوم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وجود باجود
قبل ازیں کہ ان دونوں کی نسبت سے کچھ ذکر کیا جائے تھوڑی سی تمہید سن لیں۔
علمی بحث
جو شے دوسری چیز کا معیارہو کیا وہ خود معیار کی محتاج ہوگی یا نہ؟ اگر نہ ہو تو معاملہ صاف ہو گیا۔ اگر ہوتو پھر ایک اور معیار کی ضرورت ہوگی جس سے اس معیار کو جانچا جائے۔ اس بنا پر رسول اللہﷺ کی ذات بابرکات کو دیکھنا چاہتے ہیں اس حدیث میں حضورﷺ نے اپنی ذات کو فرقہ حقہ کا معیار قرار دیا ہے یعنی جس طریق پر آپﷺ ہوں گے اسی طریق پر چلنے والا فرقہ حق پرہو گا۔
لیکن اگر کوئی شبہ کرے کہ رسول اللہﷺ بھی تو فرقہ حقہ میں داخل ہیں تو ان کی جانچ کس طرح ہو گی؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی جانچ معجزات اور نشانات وغیرہ سے ہو گی یعنی معجزات اور نشانات وغیرہ سے سمجھ لیا جائے گا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور جو کچھ فرماتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے اور حق سے مراد یہاں یہی ہے جو خدا کی طرف سے ہو۔ پس اس طریق سے بحیثیت رسالت رسول اللہﷺ معیار ہوئے۔
دوسری چیز
جس کو رسول اللہﷺ نے معیار قرار دیا ہے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ یعنی جس طریق پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہو ں گے اس طریق پر چلنے والا فرقہ حق پر ہوگا جو ان کے خلاف ہوگا وہ باطل پرست ہے۔ اب یہاں دو شبہات ہیں ایک  یہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی فرقہ میں داخل ہیں تو ان کی جانچ کس طرح ہوگی؟ دوم یہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریق رسول اللہﷺ کے طریق سے جدا ہے یا نہیں؟ اگر جدا ہے تو صحابہ رضی اللہ عنہم معاذاللہ باطل پرست ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ کی ذات ہی معیار ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم کو معیار کیوں بنایا؟
پہلے شبہ کا جواب یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم بےشک فرقہ حقہ میں داخل ہیں لیکن ان کے حق پر ہونے کی جانچ صحابیت سے ہوگی یعنی جیسے رسول اللہﷺبحیثیت رسالت معیار ہیں اور آپ کی رسالت معجزات اور نشانات وغیرہ سے پہچانی جاتی ہے اسی طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بحیثیت صحابیت معیار ہیں اور صحابیت پہچاننے کا معیار الگ ہے۔
تفصیلی بیان
 صحابی کی تعریف یہ ہے کہ رسول اللہﷺ سےایمان کی حالت میں ملاقات ہوئی ہو اور ایمان پرہی خاتمہ ہو گیا ہو۔ ایمان پر خاتمہ کا پتہ کس طرح لگے؟ اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ جیسے عام طور پر حسن ظن رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو مومن سمجھ لیا جاتا ہے اورحسن خاتمہ کا اعتبار کیا جاتا ہے اسی طر ح صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایمان اور خاتمہ کا پتہ لگایا جائے گا۔ دوم یہ کہ خدا ورسول کی شہادت ہو کہ فلاں ایمان والا ہے ، فلاں کو خدا اور اس کا رسو لﷺ دوست رکھتے ہیں ، فلاں جنتی ہے ، فلاں سے خدا راضی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ثانی الذکر اصل معیار ہے اور صحابیت کا اعلیٰ مقام ہے اوراول الذکر دوسرے درجہ پر ہے جو ثانی الذکرکے تابع ہے اس  لیےرسالہ تعریف اہل السنت میں ہم نے ثانی الذکر پر ہی اکتفا کیا ہے۔ ہاں اگر اوّل الذکر کسی کے ایمان اور حسن خاتمہ پر قریباً متفق ہوں یہ ثانی الذکر کے حکم میں ہوسکتا ہے۔ بہر صورت صحابہ رضی اللہ عنہم کا معیار ہونا بحیثیت صحابیت ہے جس کا مدار ایمان اور حسن خاتمہ پر ہے۔ جب ایمان اور حسن خاتمہ کا علم ہوگیا تو صحابیت کا پتہ آسانی سے لگ گیا۔ پس اس طریق سے صحابہ رضی اللہ عنہم  بحیثیت صحابہ رضی اللہ عنہم معیار ہوئے۔ دوسرے شبہ کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی لفظی حفاظت کا ذمہ خدا نے خود لیا ہے۔ اس میں نہ کسی قسم کا اختلاف ہوا نہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

’’إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ‘‘

’’ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافﻆ ہیں‘‘(سورۃ الحجر:9)
خدائی حفاظت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج قرآن مجید ہمارے پاس جوں کا توں موجود ہے اس میں زیر زبر تک فرق نہیں پڑا۔ ہاں اس کی تفسیر اور معانی میں بڑا اختلاف ہے ، یہی اختلاف فرقہ بندیوں کا منبع ہے۔ ہر فرقہ کا دعویٰ ہے کہ ہماری تفسیر عربیت کی رو سے صحیح ہے اس موقع پر جس کی تفسیر رسول اللہﷺ  یا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تفسیر کے موافق ہو گی وہی فرقہ حق ہوگا باقی سب باطل اور گمراہ ہوں گے۔

 (ما انا عليه واصحابی)

سے یہی مراد ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریق رسولﷺ کے طریق سے الگ نہیں مگر جہاں حدیث سے تفسیر نہ ہوسکے وہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کی تفسیر رسولﷺ کا طریق ہے اور وہی خدا کی منشا ہے۔ پس حدیث سے تفسیر نہ ملے وہاں صحابہ رضی اللہ عنہم سے لینی چاہیے کیونکہ ایک تو قرآن مجید ان کی مادری زبان تھا دوم رسول اللہﷺ کے صحبت یافتہ اور شاگرد تھے وحی ان کے سامنے اترتی ، قرائن اور احوال ان کے سامنے تھے ، علم صحیح اور علم صالح رکھتے تھے۔ غرض جتنی باتیں کسی کلام کے صحیح مطلب سمجھنے کے لئے ضروری ہیں وہ ان میں بوجہ اتم موجود تھیں۔ سب سے بڑھ کر رسول اللہﷺ کی شاگردی ، صحبت کا فیض اور مشاہدہ قرائن واحوال یہ وہ چیزیں ہیں کہ بعد والے ان سے محروم ہیں۔ اس اختلاف اور فرقہ بندیوں کے وقت صحیح تفسیر کا معیار رسول اللہﷺ نے ان کو قرار دیا ہے۔ ایسے موقع پر صحیح تفسیر خدائی منشا کےمطابق جس کو رسول اللہﷺ آگے پہنچانا چاہتے ہیں وہی ہے۔ جو سلف کے موافق ہو۔ ان کے خلاف تفسیر کرنے والا بدعتی ، گمراہ ، جہنمی ہے۔ خاص کر جس تفسیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم  سے اختلاف مروی نہ ہو یا جس مسئلہ پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اتفاق ہو وہ قطعیت کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے ایسے موقعہ پر سلف کی مخالفت کرنے والا بعید نہیں کہ کفر تک پہنچ جائے ، یعنی اسلام سے بالکل خارج ہو جائے جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا نہیں مانتے یا ختم نبوت کے قائل نہیں ، یا جیسے چکڑالوی حدیث ہی کے منکر ہیں حالانکہ حجیت حدیث پر صحابہ رضی اللہ عنہم متفق ہیں۔ اس طرح شیعہ اصحاب ثلاثہ کی خلافت کے منکر ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کی صحابیت کے منکرہیں بلکہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں حالانکہ صحابہ رضی اللہ عنہم ان کی خلافت حقہ اور صحابیت پر متفق ہیں اور اس منصب میں ان کو اعلیٰ پایہ دیتے ہیں۔ اس طرح بریلویوں وغیرہ نے سلف اور خیر قرون کے خلاف کئی مسائل ایجاد کر رکھے ہیں جن کا سلف اور خیر قرون میں نام ونشان نہیں ملتا جیسے مروجہ میلاد ، روٹی پر ختم ، سالانہ عرس وغیرہ بلکہ بعض مسائل سلف کے اور خیرالقرون کے صریح مناقض ہیں جیسے حضورﷺ کو حاضر ناظر سمجھنا ، بشریت سے انکار کرنا وغیرہ۔ اس طرح نیچریہ ، معتزلہ ، جہمیہ ، قدریہ ، جبریہ بلکہ تقلید شخصی کو فرض واجب جاننے والے اور اس کو شرعی حکم سمجھنے والے یہ سب

(ما انا عليه واصحابی)

سے خارج ہیں۔ کیونکہ انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش ترک کردی اور قرآن مجید بلکہ حدیث سے بھی استدلال کرنے کے وقت خیر القرون کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ خیرالقرون نے قرآن مجید کی کیا تفسیر کی اور حدیث پر کس طرح عمل کیا۔
   


فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص3


محدث فتویٰ

تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)