فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 535
(940) کیا مرزائی ، رافضی اورچکڑالوی کافر ہیں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2012 03:37 PM

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ، مرزائیہ، چکڑالویہ، رافضیہ بلا تفضیلیہ وغیرہ وغیرہ فرقے یہ قطعی کافر ہیں یا نہیں۔؟ نماز میں ان کی اقتداء اوران سے سلام ومصافحہ کرنا روا ہے یا نہیں۔؟ ان کی ورثہ مسلم کو یا مسلم کی وراثت ان کو پہنچتی ہے یا نہیں؟ اور مسلم عورت کوان کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مسلمان عورت کا خاوند ان فرقوں میں داخل ہو جائے، مذہب اہل سنت والجماعت بدل لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بلا طلاق وہ دوسری جگہ نکاح لے سکتی ہے یا نہیں؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ان فرقوں کے گمراہ، زندیق، ملحد، بدعتی ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں۔ البتہ کافر ہونے میں تفصیل ہے۔

مرزائیہ، چکڑالویہ تو بے شک کافر ہیں۔ معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ بھی تقریباً ایسے ہی ہیں، لیکن صاف کافر کہنا ذرا مشکل ہے۔ رافضیہ میں سے غالی قطعاً کافر ہیں جو حضرت ابو بکر﷜ وغيرهم كو مرتد کہتے ہیں اور زیدیہ کافر نہیں ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابو بکر﷜ کی امامت خطا نہیں ہے مگر حضرت علی﷜ افضل ہیں اور حضرت عثمان﷜ کے بارہ میں ساکت ہیں نہ اچھا کہتے ہیں نہ برا۔

اگر ان فرقوں کی اور ان کے علاوہ باقی فرقوں کی تفصیل مطلوب ہو تو کتاب الملل والنحل ابن حزم﷫ اور شہرستانی وغیرہ کا مطالعہ کریں اور نواب صدیق حسن خان مرحوم کا بھی ایک رسالہ خبیئۃ الاکوان اس بارہ میں ہے وہ بھی اچھا ہے۔ رہا ان لوگوں سے میل ملاپ تو یہ بالکل ناجائز ہے۔

ابن کثیر جلد دوم ص201 میں مسند احمد وغیرہ سے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ جب تم متشابہ آیتوں کے پیچھے جانے والوں کو دیکھو تو ان سے بچو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں سے ناطہ رشتہ وغیرہ کرنا یا ویسے میل ملاپ رکھنا یا نماز میں امام بنانا اس قسم کا تعلق کوئی بھی جائز نہیں۔ بلکہ جو ان میں سے کافر ہیں اگر اتفاقی طور پر ان کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے یا غلطی سے ان کے ساتھ نکاح کا تعلق ہو گیا ہو تو نماز بھی صحیح نہیں اور نکاح بھی صحیح نہیں۔ نماز کا اعادہ کرنا چاہیے۔ بلکہ اگر نکاح پڑھا ہوا ہو اور بعد میں ایسی بدعت کے مرتکب ہوئے جو کفر کی حد تک پہنچ گئی تو نکاح خود بخود فسخ ہو جاتا ہے۔ طلاق کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

’’وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِ‌كِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا‘‘

’’اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دو جب تک کہ وه ایمان نہ لائیں،‘‘(سورۃ البقرۃ:221)

اور دوسری جگہ ہے :

’’وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ‌ ‘‘

’’اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو‘‘

یعنی کافر عورتوں کے ساتھ نکاح مت رکھو۔ اگر اسی حالت میں مرجائیں مسلمان ان کے وارث نہیں اور یہ مسلمانوں کے وارث نہیں۔

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 

 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)