فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 5275
(843) گناہ کے کا م پر تقدیر سے حجت پکڑنا
شروع از بتاریخ : 01 July 2013 12:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی کام کی نسبت یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ کی مرضی سے ہوا ہے۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ ہم نے ملاقات کی ہے یہ اللہ کی مرضی سے ہوا ہے۔ ہم نے فلاں کام کیا ہے، یہ اللہ کی مرضی سے ہواہے۔؟کیا خیر اور شر دونوں کاموں کے متعلق کہنا ناجائز ہے یا صرف شر کے کاموں میں ایسا کہنا ناجائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرچہ ہر کام اللہ کی مرضی اور مشیئت کے تحت انجام پاتا ہے، لیکن گناہ کرکے تقدیر پر حجت پکڑنا جائز نہیں ہے،اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

سَیَقُولُ الَّذِینَ اَشرَکُوا لَوشَاء اللّہُ مَا اَشرَکنَا وَلاَ آبَا ُنَا وَلاَ حَرَّمنَا مِن شَیءٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم حَتَّی ذَاقُوا بَاسَنَا َ۔ (الانعام :۸۴۱)

”یہ مشرکین(یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے،اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا ‘‘۔

گناہ گار کے گناہ پر تقدیر سے حجت پکڑنے کے غلط ہونے پر اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے﴾

رُّسُلاً مُّبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِئَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّہِ حُجَّة بَعدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللّہُ عَزِیزاًحَکِیما۔ (النساء:۵۶۱)

ترجمہ”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے،خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالی پر رہ نہ جائے۔‘‘

تقدیر سے حجت پکڑنے والوں سے کہیں گے کہ اگر آپ کے سامنے دو راستے ہوں خیر اور شر‘ توشر کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے آپ کے لیے شرکا راستہ مقدر کر رکھا ہے؟ ظاہر ہے نہیں ‘ اور جب نہیں جانتے تو کیوں نہیں مانتے کہ اللہ نے آپ کے لیے خیر کی راہ مقدر کر رکھی ہے؟ کیونکہ انسان کسی چیز کے وجود میں آنے کے بعد ہی اس کو جانتا ہے کہ اللہ نے کیا مقدر کر رکھا ہے۔بعض علماء کے بقول قضاء و قدر رازہائے سربستہ ہیں جو وجود میں آنے کے بعد ہی جانے جاتے ہیں۔

ہم آپ سے پوچھیں گے کہ آپ دنیوی امور میں خیر پسند کرتے ہیں یاشر؟ آپ کہیں گے خیر‘ توہم کہیں گے کہ اخروی امور میں اپنے لیے خیر کو کیوں نہیں اختیار کرتے؟

اسی طرح ہم اس سے کہیں گے کہ آپ اگر شہر جانا چاہتے ہیں جس کے دو راستے ہوں، ایک پرخطر جہاں ڈاکو ہواکرتے ہیں اور دوسرا پر امن تو آپ کونسا راستہ پسند کریں گے؟ وہ ضرور کہے گا کہ دوسرا‘ تو ہم اس سے کہیں گے کہ آپ دنیوی امور میں صرف نجات کی راہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اور بائیں طرف سے کیوں نہیں جاتے جہاں ڈاکو رہا کرتے ہیں اور راستہ غیر ہموار ہوتا ہے؟ اور کیوں نہیں کہتے کہ ہماری قسمت میں یہی لکھ دیا گیا ہے تو وہ یہ کہے گا کہ میں تو تقدیر نہیں جانتا لیکن اچھائی کو پسند کرتا ہوں‘ تو ہم کہیں گے کہ اخروی امورمیں اچھائی کو اختیار کیوں نہیں کرتے؟۔

اگر ہم کسی کو پکڑ کر اس کو بری طرح مارنا شروع کردیں اور وہ چیخنے لگے تو کیا ہم کہیں گے کہ یہ قضائے الہی ہے، وہ جتنا چیختا جائے ہم اتنا ہی مارتے جائیں اور کہتے رہیں کہ تیری قسمت میں یہی ہے توکیا یہ حجت قابل قبول ہوگی؟ ہرگز نہیں، اس کے برخلاف جب اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو کہتاہے کہ قضا ء و قدرکا یہی فیصلہ ہے۔

ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضي الله عنه کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا انہوں نے ہاتھ کاٹنے کاحکم دیا۔ چورنے عرض کیا: امیرالمومنین! ذرا ٹھہر جائیں‘ اللہ کی قسم !میں نے قضاء وقدر کے مطابق چوری کی ہے ، وہ سچ بول رہا تھا، لیکن حضرت عمررضي الله عنه کے سامنے ایسی حجت قابل قبول نہ ہوئی،آپ نے برجستہ کہا: ”ہم قضاء وقدر کے تحت ہی تمہارا ہاتھ کاٹ رہے ہیں“۔ پھر اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔

ھذا ما عندی واللہ ٲعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)