فتاویٰ جات: اصول تفسیر
فتویٰ نمبر : 5152
(720) سورۂ فاتحہ قرآن کا جزء ہے یا نہیں؟
شروع از بتاریخ : 29 June 2013 09:25 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سورۂ فاتحہ قرآن کا جزء ہے یا نہیں اور جو قرآن کے جزء ہونے کا انکار کرے وہ مسلمان ہے یا کافر؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سورۂ فاتحہ قرآنِ مجید کا جزء ہے اور جو شخص اس کے قرآنِ مجید کا جزء ہونے کا اجتہادی خطا کے بغیر انکار کرے وہ مسلمان نہیں۔ قرآنِ مجید میں ہے: {وَلَقَدْ اٰتَیْنَاکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ط [الحجر:۸۷]} [ ’’ ہم نے آپ کو سات ایسی آیات دی ہیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور قرآنِ عظیم دیا ہے۔ ‘‘ ] اور صحیح بخاری میں ہے ابو سعید بن معَلَّی  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے کہا:  (( إِنَّکَ  قُلْتَ: لَأُعَلِّمَنَّکَ سُوْرَۃً ھِیَ اَعْظَمُ سُوْرَۃٍ فِی الْقُرآنِ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ الَّذِیْ أُوْتِیْتُ۔)) [’’ میں تجھے ایک سورت بتاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھ کر ہے آپ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا وہ سورۂ الحمد یعنی فاتحہ ہے اس میں سات آیات ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور یہی سورت وہ بڑا قرآن ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ ‘‘ ]1 قرآنِ مجید کی سورۂ العنکبوت میں ہے: {وَکَذٰلِکَ أَنْزَلْنَآ إِلَیْکَ الْکِتَابَ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنَاھُمُ الْکِتَابَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَمِنْ ھٰٓؤُلآئِ مَنْ یُّوْمِنُ بِہٖ وَمَا یَجْحَدُ بِـاٰیَاتِنَا إِلاَّ الکَافِرُوْنَ ط [العنکبوت:۴۷]} [ ’’ اور ہم نے اسی طرح آپ پر یہ کتاب نازل کی اس پر وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں ہم نے کتاب دی تھی اور ان سے کچھ لوگ ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیات سے انکار تو کافر لوگ ہی کرتے ہیں۔ ‘‘ ]

اب غور کا مقام ہے سورۂ فاتحہ کے قرآنِ مجید کا جزء ہونے اور اس کا قرآنِ مجید کا جزء ہونے کا عمداً اجتہادی خطا کے بغیر انکار کرنے والے کا مسلمان نہ ہونے سے بھلا قراء ت فاتحہ خلف الامام کا ناجائز اور نادرست ہونا ثابت ہوا؟ نہیں ہرگز نہیں تو اس سوال کا آخر فائدہ؟ آیت : {وَإِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَأَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ o [الاعراف:۲۰۴]} [ ’’ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔ ‘‘ ] میں قراء ت قرآن کے وقت استماع و انصات کا حکم ہے۔ قرآن وغیرہ کا سرًا بھی نہ پڑھنے کا حکم نہیں نہ مطابقۃً ، نہ تضمناً اور نہ ہی التزاماً۔                                        ۲۲ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۳ھ

 1  صحیح بخاری ؍ کتاب تفسیر القرآن ؍ باب ماجاء فی فاتحۃ الکتاب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 720

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)