فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 5146
انعام یافتہ اور غضب کیے گئے لوگوں کی تشریح کر دیں
شروع از بتاریخ : 29 June 2013 09:11 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ} ’’اُن لوگوں کے رستے پر چلا جن پر تو نے اپنا انعام کیا نہ کہ اُن لوگوں کے رستے پر جن پر تیرا غضب ہوا۔‘‘ انعام یافتہ اور غضب کیے گئے لوگوں کی تشریح کر دیں؟

          ۲:… اگر ان کی کوئی کرامات ہیں تو وہ بھی ذرا تفصیل سے بیان کر دیں۔ (ارشد عظیم ، نوشہرہ روڈ ، گوجرانوالہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ}[الفاتحۃ:۷] [’’ان کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا ، ان کی راہ پر نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان کی راہ جو راہ بھول گئے۔‘‘] میں جو منعم علیہم ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیتِ کریمہ میں بیان فرما دیا چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ  فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ  الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَج وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ  رَفِیْقًاo} [النسآئ:۶۹][’’جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے ، یعنی انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ اور رفیق ہونے کے لحاظ سے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں۔‘‘] اور مغضوب علیہم و ضالین اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور وہ لوگ ہیں جو ضلالت میں مبتلا اللہ کے غضب میں غرق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {فَبَائُ وْ بِغَضَبٍ عَلیٰ غَضَبٍ} [البقرۃ:۹۰] [’’لہٰذا اب یہ اللہ کے غضب در غضب کے مستحق ہو گئے ہیں۔‘‘] نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَضَلُّوْا عَنْ سَوَائِ السَّبِیْل} [المائدۃ:۷۷] [’’ جو پہلے ہی گمراہ ہیں اور بہت لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور صراطِ مستقیم سے بہک چکے ہیں۔‘‘]

اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی پہچان قرآن مجید میں اس طرح آئی ہے: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ} [یونس:۶۳][’’جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔‘‘]تو ثابت ہوا کہ ایمان و تقویٰ والے اولیاء اللہ ہیں جن میں ایمان نہیں وہ اولیاء اللہ نہیں ، جن میں تقویٰ نہیں وہ بھی اولیاء اللہ نہیں اور جن میں ایمان و تقویٰ دونوں ہی نہیں وہ بھی اولیاء اللہ نہیں ، قرآن مجید کے بیان فرمودہ اس اصول و معیار کی روشنی میں آپ اپنے سوال میں ذکر کردہ بزرگوں اور دیگر بزرگو ں کی ولایت و عدم ولایت کا فیصلہ فرما سکتے ہیں۔۔

۲:… کرامت، خرقِ عادت چیز کا ظہور یا اظہار ولی اللہ بننے یا ہونے کے لیے کوئی شرط اور ضروری و لازم نہیں۔ بس ولایت کا معیار ایمان و تقویٰ ہی ہے اس سلسلہ میں آپ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’الفرقان‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔                                                            ۲۴؍۶؍۱۴۲۳ھ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 صحیح مسلم؍کتاب الفتن و اشراط الساعۃ؍باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فیتمنی أن یکون مکان المیت من البلائ۔

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 712

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)