فتاویٰ جات: معاملات
فتویٰ نمبر : 51
ننگا لباس
شروع از بتاریخ : 21 September 2011 09:10 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " ميرى امت كے آخر ی زمانے ميں كچھ عورتيں ايسى ہونگى جو لباس پہننے کے باوجود ننگى  ہونگی، وہ  خود مائل ہونے والى اور دوسروں كو مائل كرنے والى ہونگی، ان كے سر بختى اونٹوں كى  كوہانوں كى طرح ہونگے يہ لعنتى عورتيں ہيں " اسکا کیا مطلب ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سے مراد ایسی عورتیں ہیں جو اپنے لباس میں ایسے طریقے  اختیار کرتی ہیں ،جن میں ان کے اعضاء واضح نظر آرہے ہوتے ہیں۔ محدثین کے ہاں اس کی معروف تفسیر یہی ہے کہ جو عورتیں اپنے سروں پر دوپٹا یا کوئی اور کپڑا ایسے باندھ لیتی ہیں جیسے وہ اونٹ کا کوہان محسوس ہو تو یہ ممنوع ہے۔

اسی طرح جینز کا لباس ایک  تنگ اور ٹائٹ لباس ہوتا ہے جس میں جسم کے نشیب وفراز ظاہر ہوتے ہیں لہذا اس کا پہننا مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے درست نہیں ہے۔

ھذا   ما عندی  واللہ اعلم بالصواب

 فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)