فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 4873
(445) شہید کا نماز جنازہ ، غائبانہ نماز جنازہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 26 June 2013 08:26 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شہید کا نماز جنازہ ، غائبانہ نماز جنازہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟             (قاسم بن سرور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اہل علم میں یہ مسئلہ چلا آرہا ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ درست ہے یا نہیں؟ عام اس سے کہ وہ شہید کی ہو یا غیر شہید کی۔ اس مسئلہ میں اس فقیر إلی اللہ الغنی کے ہاں حق یہ ہے کہ جس کی حاضرانہ نماز جنازہ درست ہے، اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی درست ہے۔ نیز اہل علم میں یہ مسئلہ چلا آرہا ہے کہ شہید کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟ آیا پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے؟ قطع نظر اس سے کہ وہ حاضرانہ ہے یا غائبانہ۔ اس مسئلہ میں اس عبد فقیر إلی اللہ الصمد کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ شہید فی المعرکہ کی نماز جنازہ فرض نہیں نہ ہی حاضرانہ اور نہ ہی غائبانہ۔ اگر کوئی پڑھ لے تو اجرو ثواب ہے، خواہ حاضرانہ پڑھے، خواہ غائبانہ ۔ رہا سوال ’’ شہید کی نماز جنازہ غائبانہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ‘‘ تو یہ ایک جماعت میں خاص اختلاف کی پیداوار ہے۔ حقیقت وہی ہے جو عرض کرچکا ہوں۔                                 ۸ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۵ھ


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 369

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)