فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 4790
(299) ایک سلام سے تین وتر پڑھے جاسکتے ہیں یا نہیں؟
شروع از بتاریخ : 25 June 2013 10:24 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک سلام سے تین وتر پڑھے جاسکتے ہیں یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تین وتر پڑھنے کے دو طریقے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔

 1       دو رکعت پڑھ کر التحیات ، دُرود اور دعائیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دے اور ایک رکعت الگ سلام کے ساتھ پڑھے۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم عشاء سے فراغت کے بعد اور فجر سے پہلے پہلے گیارہ رکعات نماز پڑھتے ۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے۔ 1صحیح بخاری میں ہے عبداللہ بن عباس  رضی الله عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت ، پھر وتر۔ یہ تیرہ رکعات تھیں۔‘‘ 2

 2       مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم تین وتر پڑھتے صرف آخر میں بیٹھتے۔ حافظ ذہبی نے بھی تلخیص میں امام حاکم کی تائید کی ہے اور اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ تین وتر کا تیسرا طریقہ مغرب کی نماز کی طرح والا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ واللہ اعلم۔ 

1        مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم  فی اللیل

2        بخاری ؍ کتاب الوضوء ؍ باب قراء ۃ القرآن بعد الحدث وغیرہ ، مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)