فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 4777
(349) ایک شخص کسی مدرسہ میں استاد ہے..الخ
شروع از بتاریخ : 25 June 2013 09:48 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(۱) ایک شخص کسی مدرسہ میں استاد ہے، رہائش سمیت تمام سہولیات میسر ہیں۔

(۲)      ایک خطیب اور امام مسجد میں عرصہ آٹھ سال سے مقرر ہے، رہائش بھی مسجد کے مکان میں ہے، جبکہ اس کا اصلی گھر کسی اور جگہ ہے۔

(۳)     ایک غیر ملکی طالبِ علم کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آیا ہے، آٹھ سال سے زیر تعلیم ہے۔

(۴)     ایک شخص کو حکومت نے کسی عہدے پر مقرر کیا ہے وہ عرصہ پانچ سال سے وہاں ذمہ داری ادا کررہا ہے۔

(۵)     ایک تاجر گھر سے باہر کسی دوسرے شہر میںتجارت کررہا ہے کئی سالوں سے وہاں مشغول ہے۔

(۶)      ایک شخص دوسرے ملک میں کام کرتا ہے وہ پانچ سال بعد گھر آتا ہے۔

(۷)     ایک استاد یا طالب علم بمع اہل و عیال کسی مدرسہ یا کالج میں رہ رہا ہے ایک یا دو ماہ کے بعد گھر جاتا ہے۔

          یہ لوگ اپنی ملازمت ، تجارت، تعلیم وتعلم اور مسئولیت والی جگہ پر نمازِ قصر ادا کریں یاپوری پڑھیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔              (محمد اسلم برق ، بہاولپور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے سوال لکھنے میں تو سات ہیں، مگر دو باتوں کو خوب سمجھ لینے سے ان ساتوں سوالوں کے جواب واضح ہوجاتے ہیں وہ دو باتیں یہ ہیں:    (۱) مسافت سفر ۔ (۲) مدت قصر۔ اس لیے نیچے ان دو چیزوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے بتوفیق اللہ تبارک وتعالیٰ وعونہ۔

2        مسافت قصر تین فرسخ ہے۔ سید سابق رحمہ اللہ تعالیٰ فقہ السنۃ میں لکھتے ہیں: (( روی احمد ،  ومسلم و أبو داود ، والبیہقی عن یحیی بن یزید قال: سألت أنس بن مالک عن قصر الصلاۃ ، فقال أنس: کان النبی  صلی الله علیہ وسلم إذَا خرج مسیرۃ ثلاثۃ أمیال أوفراسخ یصلی رکعتین۔ قال الحافظ ابن حجر فی الفتح: وھو أصح حدیث ورد فی بیان ذلک ، وأصرحہ۔ والتردد بین الأمیال والفراسخ ید فعہ ما ذکرہ أبو سعید الخدری قال: کان رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم إذا سافر فرسخا یقصر الصلاۃ: رواہ سعید بن منصور ، وذکرہ الحافظ فی التلخیص وأقرہ بسکوتہ عنہ )) [۱ھ (۱؍۲۸۴)]

[’’احمد مسلم ابو داؤد اور بیہقی نے یحییٰ بن یزید سے بیان کیا ہے فرماتے ہیں میں نے أنس بن مالک سے نمازِ قصر کے متعلق سوال کیا۔ انس  رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی  صلی الله علیہ وسلم تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے تو دورکعت پڑھتے۔ 1

حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں اس کی وضاحت میں صحیح ترین روایت یہی ہے رہا میل اور فرسخ کا تردد تو یہ ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ کی اس صحیح حدیث سے ختم ہوجائے گا۔ وہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم ایک فرسخ (۳ میل) کے سفر پر نکلتے تو نماز قصر کرتے۔ 2 اس روایت کو سعید بن منصور نے اور حافظ ابن حجر نے التلخیص الحبیرمیں ذکر کیا ہے اور اس پر اپنے سکوت سے صحت کی تصدیق کی ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب صلاۃ المسافرین وقصرھا۔ سنن ابی داؤد ، حدیث:۱۲۰۱

2 مصنف ابن ابی شیبۃ:۲۴۴]

اس سے آگے استاد محترم حافظ عبدالمنان صاحب نور پوری نے شیخ ألبانی رحمہ اللہ کے حوالہ سے وضاحت کی ہے کہ ایک فرسخ (تین میل) والی روایت صحیح نہیں ہے۔ ]

قال الشیخ الألبانی رحمہ اللّٰہ تعالی: لقد اغتر المؤلف بسکوت الحافظ علیہ ، وسبقہ إلی ذلک الصنعانی فی سبل السلام ، والشوکانی فی السیل الجرار (۱؍۳۰۷) وأما فی نیل الأوطار فقد شک فی صحتہ فقال عقبہ (۳؍۱۷۶): أَوردہ الحافظ فی التلخیص ولم یتکلم علیہ ، فإن صح کان الفرسخ ھو المتیقن ، ولا یقصر فیمادونہ إذا کان یسمی سفراً لغۃ أو شرعا

وأقول: أنی لہ الصحۃ ، وفیہ أبوھارون العبدی ، قال الحافظ فی التقریب: متروک ، ومنھم من کذبہ۔ وقد خرجت الحدیث فی الإرواء (۳؍۱۵) من روایۃ جمع من المصنفین عنہ فلیرجع إلیہ من شاء

وفی ذلک ما یؤکدہ أنہ لا یجوز الاغترار بسکوت الحافظ عن الحدیث ، وأن ذلک لا یعنی ثبوتہ عندہ ، حتی ولو کان ذلک فی الفتح علی أنہ أنظف مصنفاتہ من الأحادیث الضعیفۃ ، ولعلہ من أجل ذلک لم یورد ھذا الحدیث فیہ ، واللّٰہ أعلم۔ ۱ھ [تمام المنۃ:۳۱۹]

وقال فی الإروائ: وأما حدیث أنس فھو من روایۃ یحیی بن یزید الھنائی قال: سألت أنس بن مالک عن قصر الصلاۃ ،فقال: کان رسول اللّہ  صلی الله علیہ وسلم إذا خرج مسیرۃ ثلاثۃ أمیال أو ثلاثۃ فراسخ (شعبۃ الشاک) صلی رکعتین۔ أخرجہ مسلم (۲؍۱۴۵) وأبو عوانۃ (۲؍۳۴۶) وأبو داؤد (۱۲۰۱) وابن أبی شیبۃ (۲؍۱۰۸ ؍ ۱ـ۲) والبیہقی (۳؍۱۴۶) وأحمد (۳؍۱۲۹) وزاد بعد قولہ: عن قصر الصلاۃ۔ قال: کنت أخرج إلی الکوفۃ فأصلی رکعتین حتی أرجع۔ وھی روایۃ للبیہقی، وإسنادھا صحیح۔ ۱ھ

ثم ذکر حدیث أبی سعید الخدری الذی فی إسنادہ أبو ھارون العبدی المتروک، ثم قال: فالعمدۃ علی حدیث أنسٍ ، وقد قال الحافظ فی الفتح (۲؍۴۶۷): وھو أصح حدیث ورد فی بیان ذلک وأصرحہ، وقد حملہ من خالفہ علی أن المرادبہ المسافۃ التی یبتدأ منھا القصر ، لاغایۃ السفر ، ولا یخفی بعد ھذا الحمل مع أن البیہقی (قلت: وکذا أحمد) ذکر فی روایتہ من ھذا الوجہ أن یحیی بن یزید رواہ عن انس قال: سألت أنسا عن قصر الصلاۃ ، وکنت أخرجہ إلی الکوفۃ ، یعنی من البصرۃ فأصلی رکعتین حتی أرجع ، فقال أنس: فذکر الحدیث۔

فظہر أنہ سألہ عن جواز القصر فی السفر لاعن الموضع الذی یبتدأ القصر منہ۔ ثم ان الصحیح فی ذلک أنہ لا یتقید بمسافۃ ، بل بمجاوزۃ البلد الذی یخرج منھا۔ وردہ القرطبی بأنہ مشکوک فیہ فلا یحتج بہ ، فإن کان المراد بہ أنہ لا یحتج بہ فی التحدید بثلاثۃ أمیال فمسلم لکن لا یمتنع أن یحتج بہ فی التحدید بثلاثۃ فراسخ فإن الثلاثۃ أمیال مندرجۃ فیہ ، فیؤخذ بالأکثر احتیاطا۔ الخ (۳؍۱۴ ـ ۱۵)

یقول النور فوری: لاریب أن الشرع یأمرنا بطرح الشک ، والأخذ بالیقین وودع مایریب إلی مالا یریب قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ:{ وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا }[بنی اسرائیل:۳۶][ ’’ جس بات کی تجھے خبر نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔‘‘ ] ولا ریب أن شک شعبۃ فی حدیث أنس  رضی اللہ عنہ إنما ھو فی ثلاثۃ أمیال ، لافی ثلاثۃ فراسخ ، فالمتیقن فی الحدیث ھو أن رسول اللّٰہ  صلی الله علیہ وسلم کان إذا خرج مسیرۃ ثلاثۃ فراسخ صلی رکعتین۔

تو انس بن مالک  رضی اللہ عنہ کی صحیح مسلم اور دیگر کتب والی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت ہوا کہ مسافت قصر تین فرسخ ہے تو تین فرسخ سے کم مسافت والے سفر میں نماز قصر کرنا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ رہے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین  کے کچھ آثار تو وہ حجت و دلیل نہیں۔ کیونکہ موقوفات دین میں حجت و دلیل نہیں، اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ یہ آثار حکماً مرفوع ہیں تو ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ اس مقام پر اجتہاد کو دخل ہے۔ نیز وہ آثار ایک دوسرے سے متعارض ہیں۔ دو بنیادی باتوں سے پہلی بات مسافت قصر والی مکمل ہوئی۔ دوسری بات مدت قصر والی مندرجہ ذیل ہے:

 2       مسافر آدمی دوران سفر کسی مقام پر چار روز یا چار روز سے کم مدت اقامت کا ارادہ بناکر ٹھہرے تو قصر کرے اور اگر کسی مقام پر چار روز سے زائد مدت اقامت کا ارادہ بنا کر ٹھہرے تو اس مقام پر پہنچتے ہی نماز پوری پڑھے۔ قصر نہ کرے، کیونکہ دورانِ سفر چار روز سے زائد مدت اقامت کا ارادہ بناکر ٹھہرنے کی صورت میں نماز قصر کرنا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ چار ذوالحجہ صبح کے وقت رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم مکہ معظمہ پہنچے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کو علم تھا کہ ہم نے آٹھ تاریخ کو مکہ معظمہ سے منی روانہ ہونا ہے ، تو یہ چار دن کا عرصہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ارادہ بناکر مکہ مکرمہ میں ٹھہرے اور نماز قصر کرتے رہے۔ رہے آپ کے دیگر اسفار تو ان میں آپ کی کسی مقام پر مدت اقامت ارادۂ اقامت بناکر تھی۔

کسی نص سے ثابت نہیں ظواہر بھی اس چیز پر دلالت نہیں کرتے۔ بعض اہل علم نے اس کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، مگر وہ کوئی ایک بھی پتے کی بات بیان نہ فرماسکے۔

رہی مسافر کے تردد والی صورت کہ آج واپس چلا جاتا ہوں، کل واپس چلا جاؤں گا تو اس صورت میں عام علماء کرام یہی فرماتے ہیں کہ مدت مقرر نہیں چاہے مہینہ ٹھہرا رہے۔ چاہے سال قصر کرتا رہے، مگر رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا ایسی صورت میں بیس دن سے زیادہ ٹھہرنا ثابت نہیں۔ اب تردد والی صورت میں رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم بیس دن سے زیادہ کسی مقام پر ٹھہرتے تو قصر کرتے یا پوری پڑھتے، اس کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو علم نہیں۔ اس لیے تردد والی صورت میں بھی مسافر کو اگر کسی مقام پر بیس دن سے زیادہ عرصہ ٹھہرنا پڑے تو بیس دن کے بعد نماز پوری پڑھے، قصر نہ کرے۔

باقی آیت کریمہ: { وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط}[النسائ:۱۰۱][’’ جب تم سفر پر جارہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔‘‘ ]کے عموم و اطلاق کو پیش نظر رکھ کر مسافت قصر اور مدت قصر کو ختم کرنا درست نہیں۔

اولا یہ آیت کریمہ صلاۃ خوف اور قصر ہیئت و کیفیت کے متعلق ہے، قصر کمیت و عدد کے متعلق نہیں۔ صاحب أضواء البیان لکھتے ہیں: (( قال بعض العلمائ:  المراد بالقصر فی قولہ: أن تقصرو۔ فی ھذہ الآیۃ قصر کیفیتھا لا کمیتھا ، ومعنی قصر کیفیتھا: أن یجوز فیھا من الأمور مالا یجوز فی صلاۃ الأمن۔ کأن یصلی بعضھم مع الإمام رکعۃ واحدۃ ویقف الإمام حتی یأتی البعض الآخر فیصلی معھم الرکعۃ الأخری ، وکصلاتھم ایماء رجالا ورکبانا وغیر متوجھین إلی القبلۃ ، فکلُّ ھذا من قصر کیفیتھا ، ویدل علی أن المراد ھو ھذا القصر من کیفیتھا قولہ تعالیٰ بعدہ یلیہ مبینا لہ: وإذا کنت فیھم فأقمت لھم الصلاۃ الخ۔ ))

اس کے بعد صاحب اضواء البیان فرماتے ہیں: (( وعلی ھذا التفسیر الذی دل لہ القرآن فشرط الخوف فی قولہ: إن خفتم أن یفتنکم الذین کفروا معتبر أی وإن لم تخافوا منھم أن یفتنوکم فلا تقصروا من کیفیتھا ، بل صلوھا علی أکمل الہیئات کما صرح بہ فی قولہ: فإذا اطمأننتم فأقیموا الصلاۃ ، وصرح باشتراط الخوف أیضا لقصر کیفیتھا بأن یصلیھا الماشی والراکب بقولہ: فإن خفتم فرجالا أو رکبانا۔ ثم قال: فإذا أمنتم فاذکرو اللّٰہ کما علمکم۔ الآیۃ یعنی فإذا أمنتم فأقیموا صلاتکم کما أمرتم برکوعھا وسجودھا ، وقیامھا وقعودھا علی أکمل ہیئۃ وأتمھا ، وخیر ما یبین القرآن القرآن ، ویدل علی أن المراد بالقصر فی ھذہ الآیۃ القصر من کیفیتھا کما ذکرنا أن البخاری صدر باب صلاۃ الخوف…الخ )) اس کے بعد لکھتے ہیں: (( ویؤ یدہ أیضا أن قصر عددھا لا یشترط فیہ الخوف الخ )) پھر اس کے بعد فرماتے ہیں: (( وأصرح من ذلک دلالۃ علی ھذا مارواہ الإمام أحمد حدثنا وکیع و سفیان و عبدالرحمٰن بن أبی لیلی عن عمر  رضی اللہ عنہ قال: صلاۃ السفر رکعتان ، وصلاۃ الأضحی رکعتان ، وصلاۃ الفطر رکعتان ، وصلاۃ الجمعۃ رکعتان تمام غیر قصر علی لسان محمد  صلی الله علیہ وسلم الخ ))  اس کے بعد لکھتے ہیں: (( فاعلم أن ابن کثیر بعد أن ساق الحدیث عن عمر ، وابن عباس ، وعائشۃ قال مانصہ:

وإذا کان کذلک فیکون المراد بقولہ: فلیس علیکم جناح أن تقصروا من الصلاۃ۔ قصر الکیفیۃ کما فی صلاۃ الخوف ، ولھذا قال: إن خفتم أن یفتنکم الذین کفروا۔ الآیۃ ، ولھذا قال بعدھا: وإذا کنت فیھم فأقمت لھم الصلاۃ۔ الآیۃ فبین المقصود من القصر ھھنا ، وذکر صفتہ وکیفیتہ۔ ۱ھ محل الغرض منہ بلفظہ وھو واضح جدا فیما ذکرنا وھو اختیار ابن جریر۔ وعلی ھذا القول فالآیۃ فی صلاۃ الخوف ، وقصر الصلاۃ فی السفر علیہ مأخوذ من السنۃ ، لامن القرآن۔ ۱ ھ )) [۱؍۳۹۹ ـ ۴۰۵]

ثانیاً اس آیت کریمہ سے مراد قصر کمیت و عدد ہی ہے، جیسا کہ ایک گروہ کی تفسیر ہے صاحب أضواء البیان ہی لکھتے ہیں: (( إن المراد بالقصر فی قولہ: أن تقصروا ھو قصر الصلاۃ فی السفر الخ )) اس تفسیر کے دلائل بیان فرمانے کے بعد لکھتے ہیں: (( فھذا الحدیث الثابت فی صحیح مسلم وغیرہ یدل علی أن یعلی بن أمیۃ ، وعمر بن الخطاب رضی الله عنہ کانا یعتقدان أن معنی الآیۃ قصر الرباعیۃ فی السفر ، وأن النبی  صلی الله علیہ وسلم أقر عمر علی فھمہ لذلک ، وھو دلیل قوی ، ولکنہ معارض بما تقدم عن عمر من أنہ قال: وصلاۃ السفر رکعتان تمام غیر قصر علی لسان محمد  صلی الله علیہ وسلم ، ویؤیدہ حدیث عائشۃ ، وحدیث ابن عباس المتقدمان ، وظاہر الآیات المتقدمۃ الدالۃ علی أن المراد بقولہ: أن تقصروا من الصلاۃ۔ قصر الکیفیۃ فی صلاۃ الخوف کما قدمنا۔ واللّٰہ أعلم۔ ۱ ھ )) [۱ ؍ ۴۰۶ ـ ۴۰۷]

مگر اس کے عموم و اطلاق کی رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کے عمل کے ساتھ تخصیص و تقیید ہوچکی ہے، چنانچہ مسافت قصر اور مدت قصر کے متعلق رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا عمل پہلے بیان ہوچکا ہے۔ جس طرح رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا قول عموم و اطلاق کی تخصیص و تقیید کرتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا عمل بھی عموم و اطلاق کی تخصیص و تقیید کرتا ہے۔ دیکھئے: (( مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِی ھٰذَا ، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لاَ یُحَدِّثُ فِیْھِمَا نَفْسَہٗ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ )) 1[رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص میرے وضوء کی طرح وضوء کرے، پھر دو رکعتیں پڑھے اور توجہ نماز کی طرف رکھے، تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘ ] کے عموم و اطلاق کے پیش نظر کوئی شخص عید والے دن عید گاہ میں نماز عید سے پہلے یا بعد دو رکعت نماز پڑھے، تو ہم اس کو نہیں پڑھنے دیں گے، کیونکہ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا عمل عید والے دن عیدگاہ میں صرف نماز عید پڑھنا ہے۔ پہلے یا بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے نماز نہیں پڑھی۔ 2

پھر دیکھئے میت کے لیے دعاء کی نصوص کے عموم و اطلاق کے پیش نظر کوئی شخص یا کچھ اشخاص نماز جنازہ سے سلام پھر جانے کے بعد اسی مقام پر بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر میت کے لیے دعاء کریں تو ہم کیوں روکتے ہیں۔ اسی لیے کہ ایسا کرنا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ لہٰذا ان کا عموم و اطلاق سے استدلال درست نہیں۔ وعلی ہذا القیاس اس کی آپ کو بہت سی مثالیں ملیں گی۔

 تو تین فرسخ سے کم مسافت میں حالت سفر میں نماز قصر کرنا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں، پھر ارادہ بناکر اقامت کی صورت میں چار دن سے زائد اور تردد والی صورت میں بیس دن سے زائد قصر کرنا بھی رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں، لہٰذا تین فرسخ سے کم مسافت والے سفر میں اور دونوں صورتوں میں مندرجہ بالا مدت سے زیادہ مدت نماز قصر نہ کرنا چاہیے۔ آیت کریمہ: { وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ ط} الخ کے عموم و اطلاق سے استدلال درست نہیں۔ کیونکہ آپ  صلی الله علیہ وسلم کے عمل کے ساتھ اس آیت کریمہ کے عموم و اطلاق کی تخصیص و تقیید ہوچکی ہے۔ واللہ اعلم۔    ۲۴ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۱ھ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 مسلم ؍ الطہارۃ ؍ باب صفۃ الوضوء وکمالہ

2بخاری ؍ العیدین ؍ باب الخطبۃ بعد الصید ، مسلم ؍ صلاۃ العیدین ؍ باب ترک الصلاۃ قبل العید وبعدھا فی المصلی

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 270-277

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)