فتاویٰ جات: تحقیق حدیث
فتویٰ نمبر : 44
اَللَّهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ حدیث کی تحقیق
شروع از بتاریخ : 21 September 2011 08:55 AM

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

روزہ افطاری کی معروف دعا

’’اللہم لک صمت و علی رزقک افطرت‎‘‘۔سنن أبو داؤد،  : 2358 ۔

کیا اس کی سند ضعیف ہے ؟۔ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے اور اس کی دونوں سندیں ہی ضعیف ہیں۔تفصیل ملاحظہ کیجیے:(1)انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ کلمات کہتے:

’’ بسم الله،اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت‘‘

(طبرانی اوسط:7549،طبرانی صغیر:912،اخبار اصبہان:1756)ضعیف جدا۔

اس سند میں اسماعیل بن عمرو بن نجیح اصبہانی ضعیف اور داود بن زبرقان رقاشی متروک راوی ہے (2)معاذ بن زہرہ سے مروی ہے ،وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں خبر پہنچی کہ نبیﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا کرتے:

’’اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت .‘‘

(سنن ابوداود:2358،سنن بیہقی:239/4،مصنف ابن ابی شیبہ:9837‎،)ضعیف۔

یہ حدیث دو علتوں کی وجہ سے ضعیف ہے۔

یہ روایت مرسل ہے معاذبن زہرہ تابعی ہے،

معاذبن زہرہ مجہول راوی ہے۔

اس کے برعکس روزہ افطار کرتے وقت کی آیندہ دعا مسنون ہے،عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺجب روزہ افطار کرتے تو الفاظ کہتے‎:

’’ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله‘‘

پیاس چلی گئی ،رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہوگیا۔

(سنن ابوداود:2357،حاكم  1 / 422 ،بیہقی 4 / 239،عمل الیوم و اللیلہ لابن السنی:477)اسنادہ حسن۔

وباللہ التوفیق

فتویٰ کمیٹی


محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)