فتاویٰ جات: علوم حدیث
فتویٰ نمبر : 3638
(02) کیا حدیث وحی الہٰی نہیں ہے۔؟
شروع از بتاریخ : 06 June 2013 08:01 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا حدیث وحی الہٰی نہیں ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خدا کے جانچنے کی کوئی انتہا نہیں۔وہ اپنے بندوں کو مختلف امور سے آزماتا ہے۔مسلمان شیطان مردود کے جال میں آکر کن کن گمراہ کن فرقوں میں پھنس گئے ہیں۔لا اله الاالله محمد رسول الله مانتے ہوئے بھی تقلید شخصی میں مبتلا ہے ۔کوئی  احادیث نبوی کو سرے سے اُڑاتا ہے جس کا جو جی چاہتا ہے۔کرگزرتا ہے کچھ عرصہ سے ایک نیا فرقہ رونما ہوا ہے۔جو منکر حدیث ہے۔صرف قرآن متلو ہی کو اپنا لائحہ عمل بتاتا ہے اور احادیث صحیحہ کی تردید میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے مگر مسلمانوں یاد  رکھو!کبھی بھی احادیث نبویہ باطل پرستوں کے زور سے نہیں مٹ سکتیں۔جس طرح قرآن متلو وحی الہٰی ہے۔اسی طرح احادیث صحیحہ بھی وحی الہٰی ہیں۔یہ قرآن کے بالکل خلاف نہیں بلکہ اس کی مفسر ہیں۔اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔

وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُ‌ونَ ﴿٤٤

اے نبی اُمی ہم نے آپ پر قرآن اتارا تاکہ آپ لوگوں کو کھول کر بتایئں۔امید ہے کہ غور وفکر کریں۔دوسری جگہ ارشاد ہے۔

لَا تُحَرِّ‌كْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ﴿١٦﴾ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْ‌آنَهُ ﴿١٧﴾ فَإِذَا قَرَ‌أْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْ‌آنَهُ ﴿١٨﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ﴿١٩

اس تبین اور بیان سے  ثابت ہوتا ہے۔کہ جو کچھ حضور پر نور اپنی زبان الہام ترجمان سے قرآن کے معنی و مطالب اور تفسیر و تفصیل کرتے تھے۔وہ من جانب اللہ ہی تھا۔کیونکہ نبی کا ہر فعل و قول امر و نہی بحکم الہٰی ہوتا ہے فرمایا!

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ

آپ اپنی خواہش نفسانی سے کوئی بات نہیں بناتے بلکہ وہی کہتے ہیں جن کاحکم ہوتا ہے۔اسی لئے تو فرمایا!

َقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

اے مسلمانوں! تمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺ میں بہتر نمونہ ہے رسول کا نمونہ ہمیں احادیث ہی میں ملتا ہے۔آپ مشکل امر کی  تفسیر کرتے اور مجمل امر کی توضیح کرتے اللہ عزوجل فرماتا ہے۔اقيموالصلوة نماز درست کر کے ٹھیر ٹھر کر پڑھا کرو۔اس کا زکر متعدد جگہ میں ہے لیکن کس طرح ادا کریں کتنی رکعتیں ا دا کی جایئں؟قرآن متلو نہیں بتاتا اسی طرح روزہ حج ذکواۃ وغیرہ ہیں۔جب یہ امر بالکلیہ ثابت ہوگیا کہ احادیث صحیحہ بھی من جانب اللہ ہیں تو جس طرح قرآن متلو کا محافظ بھی باری تعالیٰ ہے۔اسی طرح احادیث کا محافظ بھی باری تعالیٰ ہے۔جس طرح قرآن میں ایک حرف  ردو بدل نہیں بعینہ اسی طرح احادیث کے لفاظ بھی ثابت ہیں۔یہ لوگ حدیث پر کئی ایک اعتراض کرتے ہیں۔جو ان کی نافہمی اور کج روی پر دال ہیں۔ان شاء اللہ بالترتیب ہر اعتراض کا جواب دیتا چلوں گا۔

اعتراض نمبر 1

َقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

رسول سےمراد قرآن ہے۔یعنی تمہارے لئے اللہ کے قرآن میں بہتر نمونہ ہے۔اسی طرح قرآن میں جہاں کہیں بھی رسول کا لفظ آیا ہے۔قرآن ہی کے معنی میں ہے۔؟

جواب۔نمبر1

اگر رسول سے مراد قرآن ہے۔ تو اس آیت کے کیا معنیہوں گے۔

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢

ترجمہ۔وہی ذات ہے جس نے (عرب کے)ناخواندہ لوگوں میں اُن ہی (کی قوم) میں سے (یعنی عرب میں سے)ایک رسول(قرآن) بھیجا۔جو اُن کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔اور ان کو (عقائد باطلہ سے)پاک کرتے ہیں۔اور ان کو کتاب و دانش مندی (کی باتیں ) بتاتے ہیں۔کیا اس کا یہی ترجمہ ہوگا۔؟

دوسری جگہ فرمایا!

إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَ‌سُولُ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَ‌سُولُهُ وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ ﴿١

 

ترجمہ۔جب آپ کے پاس یہ منافقین آتے ہیں۔تو کہتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کےرسول(قرآن) ہیں۔اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ بے شک اللہ کے رسول(قرآن ہیں)ع۔تو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔

اعتراض نمبر 2

سورہ نحل میں ارشاد خداوندی ہے

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَ‌حْمَةً وَبُشْرَ‌ىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

ترجمہ۔یعنی ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے کہ تمام باتوں کا بیان کرنے والا ہے اور خاص مسلمانوں کے واسطے بڑی رحمت اور خوش خبری ہے دوسری جگہ فرمایا!

وَلَقَدْ صَرَّ‌فْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَىٰ أَكْثَرُ‌ النَّاسِ إِلَّا كُفُورً‌ا ﴿٨٩

ہم نے لوگوں کی( ہدایت) کے لئے ۔اس قرآن میں ہر قسم کے (ضروری اور)عمدہ مضامین بیان کیے ہیں۔تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں۔تیسری جگہ فرمایا!

وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا 

اس نے تمہارے پاس ایک کامل کتاب بھیج دی ہے۔اس کی حالت یہ ہے   کہ اس کے مضامین صاف کر دیئے ہیں۔ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لیے قرآن ہی کافی ہے۔اور بس حدیث کی کوئی ضرورت نہیں۔

جواب۔ہاں یہ بجا اور  درست ہے۔ہم کب اس سے انکار کرتے ہیں۔؟واقعی قرآن اللہ کی بڑی باعظمت کتاب ہے۔اس میں شک نہیں کہ وہ تمام کتابوں سے افضل اور برتر ہے۔لیکن بتائو کس جگہ حضور  ﷺ نے  اس  قرآن کے خلاف لب کشائی کی ہے۔انہوں نے بھی تو تم جیسے کم فہم نام کے مسلمانوں کو سمجھانے کے لئے اس کی تشریح کردی وہی تو حدیث ہے۔اگر تم اس کو نہیں مانتے تو آئو ہم بھی چند باتیں دریافت کرتے ہیں۔اللہ پاک رسول ﷺ کے اس بھید کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔جس کو آپﷺ نے اپنی بعض بیویوں سے  پوشیدہ رکھا تھا۔فرمایا!

وَإِذْ أَسَرَّ‌ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَ‌هُ اللَّـهُ عَلَيْهِ عَرَّ‌فَ بَعْضَهُ وَأَعْرَ‌ضَ عَن بَعْضٍ ۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَـٰذَا ۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ‌ ﴿٣

یہ کونسی بات تھی  کہ جس کو حضور ﷺ نے اپنی بعض بیویوں سے پوشیدہ رکھا تھا۔اور بعض کو جتلا دیا تھا۔کیا قرآن نے دوسری جگہ اس بھیدکو بتلایا دوسری جگہ فرمایا!

أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ

ترجمہ۔کیا آپﷺ ان لوگوں پر نظر نہیں فرماتے جن کو سرگوشیوں سے منع کر دیا گیا تھا۔مگر پھر بھی وہ وہی کام کرتے ہیں۔جس سے ان کو منع کیا گیا تھا۔وہ کون سی سرگوشی تھی۔قرآن نے دوسری جگہ کہیں اس  کا زکر کیا ہے۔تیسری جگہ ارشاد ہے۔

وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّ‌سُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَ‌ةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بِالنَّاسِ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٤٣

ترجمہ۔جس سمت قبلہ پر آپ رہ چکے ہیں وہ تو محض اس کے لئے تھا کہ ہم کو معلوم ہو جائے کہ کون ہمارے رسول کی اتباع کرتا ہے۔اور کون پیچھے ہٹ جاتا ہے۔تحویل قبلہ سے پہلے کون سا قبلہ تھا؟اور اس کا حکم کونسی آیت میں ہے۔

اعتراض نمبر3

چونکہ حدیثوں میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ایک ہی لفظ کو کسی ر اوی نے مقدم اور کسی نے موخر کسی نے گھٹا دیا اور کسی نے زیادہ کردیا۔یعنی روایت بالمعنی ہے۔ اور یہ جائز  نہیں اس لئے حدیثیں مانی نہیں جاسکتیں۔

جواب۔

اگر واقعی روایت بالمعنی ہی کی وجہ سے حدیث رسول چھوڑی جاتی ہے۔تو آئو میں بھی قرآن کریم میں مختلف جگہوں پرنقل بالمعنی بتائے دیتا ہوں۔اللہ پاک جادو  گروں کے کلام کو نقل بالمعنی ہی سے بیان فرماتا ہے۔سورۃ شعراء میں ارشاد ہوتا ہے۔

فَأُلْقِيَ السَّحَرَ‌ةُ سَاجِدِينَ ﴿٤٦﴾ قَالُوا آمَنَّا بِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٤٧﴾ رَ‌بِّ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ ﴿٤٨

 

(خدائی نشانی )دیکھ کر جادو گر ایسے متاثر ہوئے۔کہ سب کے سب سجدے میں گر پڑے اور(پکار پکار کر کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین جو موسیٰ ؑ وہارون کا رب ہے اسی مضمون کو سورۃ طہٰ میں یوں فرمایا ۔

فَأُلْقِيَ السَّحَرَ‌ةُ سَاجِدِينَ ﴿٤٦﴾ قَالُوا آمَنَّا بِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٤٧﴾ رَ‌بِّ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ ﴿٤٨

یعنی جادو گر سجدے میں گر گئے اور (باآواز بلند) کہا ہم تو ہارون اور موسیٰ کے پروردیگار پر ایمان لے آئے۔صرف لفظی فرق ہے۔دونوں آیتوں کا مفہوم ایک ہے۔وہ تو جادوگروں کا قول منقول تھا۔اب اپنے نبی کے ایک ہی قول کو مختلف انداز میں نقل فرماتاہے۔سورۃ نحل میں فرمایا!

ذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِ إِنِّي آنَسْتُ نَارً‌ا سَآتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ‌ أَوْ آتِيكُم بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ﴿٧

سورۃ قصص میں یوں کیا۔

فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارً‌ا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ‌ هُدًى ﴿١٠

سورۃ طہٰ میں یوں فرمایا۔

إِذْ رَ‌أَىٰ نَارً‌ا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارً‌ا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ‌ هُدًى ﴿١٠

 

ناظرین اب آپ ہی پر انصاف کا دارومدار ہے۔بات تو اتنی تھی کہ موسیٰ ؑ جب مدین سے واپس ہوئے تو رات کی تاریکی میں راستہ بھول گئے دور سے کچھ روشنی معلوم ہوئی آپ نے اپنے اہل سے فرمایا یہیں ٹھہرومیں آگ دیکھ رہا ہوں یا تو آگ لائوں گا یا راستہ پوچھ لوں گا۔یہ تو نبی کے کلام کی نقل تھی۔اب آئیے خود باری تعالیٰ ایک ہی امر کی تلقین موسیٰ ؑ کوچند مواقع پر کئی طرح کرتا ہے۔سورۃ طہٰ میں فرمایا!

وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُ‌جْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ‌ سُوءٍ 

یعنی تم  اپنا( داہنا )ہاتھ اپنی دبایئں بغل میں دے تو(پھر نکالو) وہ بلا کسی عیب (لعرض) کے نہایت روشن ہوکر نکلے گا اسی مضمون کو سورۃ قصص میں یوں فرمایا۔

اسلك يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُ‌جْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ‌ سُوءٍ 

سورۃ نحل میں یوں زکر ہے۔

وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُ‌جْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ‌ سُوءٍ 

اب بتائو کیا قرآن بھی چھوڑ دو گے۔

طریقہ نقل قرآن ہی سے بتایا

محدثین کرام نے حدیث کی اسناد قرآن ہی سے سیکھی ہے۔اخبرنا ۔انبانا کے زریعے نقل حدیث کا طریقہ قرآن ہی سے سیکھا ہے۔سورۃ تحریم میں فرمایا!

وَإِذْ أَسَرَّ‌ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَ‌هُ اللَّـهُ عَلَيْهِ عَرَّ‌فَ بَعْضَهُ وَأَعْرَ‌ضَ عَن بَعْضٍ ۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَـٰذَا ۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ‌ ﴿٣

ترجمہ۔جب کے نبی کریم ﷺ نے اپنی کسی بی بی سے ایک بات چپکے سے فرمائی پھر جب اس بی بی نے وہ بات(دوسری بی بی کو بتلادی۔اور حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی کے)اس کی خبر کر دی۔آپ نے اس ظاہر کردینے والی بی بی کو تھوڑی سی بات تو جتلادی۔ اور بعض باتوں سے اعراض کر گئے۔بی بی نے پوچھا کہ یہ خبر آپ تک کیسے پہنچی ؟آپ نے فرمایا کہ مجھ کو بڑے خبر کر دینے والے نے خبر کر دی۔

طریقہ جانچ قرآن ہی سے اخذ ہے۔

محدثین کرام نے رایوں کی جانچ پڑتال کا طریقہ بھی قرآن ہی سے اخذ فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا!

َا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦

جب تمہارے پاس کوئی فاسق کسی قسم کی خبر لائے تو پرکھ لیا کرواس سے انہوں نے راویوں کی جانچ کا طریقہ ہم کو بھی سکھا دیا ہے۔پھر یہ کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔کہ ان لوگوں نے غلط باتیں اکھٹی کر دی ہیں۔ ناظرین اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہﷺ کی ہر ایک پیش گوئی اسی طرح ثابت ہوکر رہی۔جس طرح آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  سے فرمایا تھا۔بعض تو ایسی ہیں جو آپﷺ کے ہی عہد مبارک میں پوری ہویئں۔اور بعض کا وقوع عہد خلافت میں ہوا۔اور بعض ایسی بھی ہیں جو محدثین کے چل بسنے کے بعد ظاہر ہویئں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ غیب کی خبر تو اللہ ہی کو ہے۔لا يظهر علي غيبه احدا الا من ارتضي من رسولوہ غیب کسی کوظاہر نہیں کرتا۔سوائے اس رسول ک جس سے وہ خوش ہو۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کا رسول ﷺ جھوٹا نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ کی وحی کی  ہوئی بات لوگوں تک پہنچاتا ہے۔نمونہ کے طور پر دو چار یہاں بتائے دیتا ہوں۔

1-عن انس بن مالك يقول كان رسول الله صلي الله عليه وسلم يدخل علي ام حرام بنت ملحان فتطعمه وكانت ام حرام تحت عبادة بن صامت فدخل عليها رسول الله صلي الله عليه وسلم فاطعمته وجعلت تفلي راسه  فنام رسول الله صلي الله عليه وسلم ثم استيقظ وهو يضحك قالت فقلت ما يضحك يا رسول الله قال فاس من امتي عرضوا علي غزاة في سبيل الله يركبون بثج هذا البحر مثل الملوك علي الاسرة

(الحدیث بخاری جلد اول ص391) ام حرام بھی آپﷺ کی  رضاعی خالہ ہوتی ہیں۔حضور ﷺ اکثر ام حرام کے گھر جایا کرتے تھے۔ وہ ان کو کچھ کھلاتی پلاتیں پھر  آپ سو جاتے یا چلے جاتے۔ایک  روز آپ ان کے یہاں سوئے تھے یکا یک مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ام حرام نے دجہ دریافت کی فرمایا میری امت کے وہ غاذی دکھلائے گئے جو سمندر میں جہاد کے لئے سفر کریں گے۔وہ اپنے جہازوں پر اس طرح بیٹھے ہوں گے۔ام حرام نے درخواست کی کہ اے اللہ کےرسولﷺ میرے لیے دیا کردیجئے  کہ اللہ مجھے بھی انھیں میں سے بنادے۔آپ ﷺ ان کے لئے دعا کر کے سو گئے پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ام حرام نے سبب پوچھا فرمایا میرے سامنے وہ جماعت پیش کی گئی۔جواللہ کے  راستے میں جہاد کرے گی۔پھر ام حرام نے دعا کی درخواست کی فرمایا تم پہلے گروہ میں سے ہو آپ کی یہ پیش گوئی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درو میں پوری ہوئی۔

فوكبت البحر في زمان معاوية بن ابي سفيانفصرعتعن وابتها حين خرجت من البحر فهلكت

اپنے شوہر عبادہ بن صامت کے ہمراہ عہد معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں جزیرہ طبرس کی لڑائی میں شامل ہویئں جہاد کی واپسی میں جب جہاذ سے اتریں تو  ان کے لئے سواری لائی گئی اس سے گر کی شہید جنت کو سدھاریں دوسر ی روایت میں ہے۔کہ ان کو جنت کی بھی خوش خبری مل گئی تھی۔

اول جيش من امتي يغزون البحر قد او جبوا

(بخاری جلد نمبر ص21) میری امت کا پہلا گروہ وہ جو سمندر میں جہاد کے لئے جائے گا بے شک وہ جنت کا حقدار ہوگا اور دوسرا گروہ وہ تھا جو قیصر کے شہر پر حملہ آور ہوا یہ لڑائی بھی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے زمانہ میں ہوئی جب کہ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو قسطنطنیہ پرچڑھائی کرنے کےلئے  52ھ؁ میں بھیجا تھا۔دیکھو بخاری  پارہ 11 صفحہ 409

2۔آپﷺ کی پیش گوئی تھی۔

ان ابني هذا سيد ولعل الله ان يصلح به بين فلتين عظيمتين من المسلمين

(بخاری پ10 ص373)حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خلافت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  خلیفہ ہوئے۔جب یہ خبر  حضرت معاویہرضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو شام میں پہنچی۔تو انہوں نے اس کو پسند نہیں اور لڑائی کا سامان طرفین سے  ہوگیا قریب تھا کہ دونوں جماعتوں میں تصادم ہو جائے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے صلح کا پیغام عبد الرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  عبد اللہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی معرفت بھیجا وہ دونوں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پا س روانہ ہوئے او ر صلح کا پیغام دیا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا اگر میں واپس ہو جائوں اور وہ پیچھے سے حملہ کردیں تو اس کا ضامن کون ہوگا۔ان دونوں نے کہا اس کے ضامن ہم ہیں۔بالاخر صلح کر لیتے ہیں۔اس وقت حسن بصری ؒ  کہتے ہیں۔کہ بے شک میں نے ابا بکرہ سے کہتے سنا کہ رسو ل اللہﷺ ایک روز خطبہ دےرہے تھے۔اورحسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  آپ کے  پہلو میں کھڑے تھے ایک مرتبہ آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک مرتبہ ان کی طرف متوجہ ہوکر فرمارہے تھے۔ان ابني هذا سيدبلا شک میرا یہ بیٹا سردار ہے۔عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے زریعہ ایک دن دو بڑی بڑی مسلمانوں کی جماعتوں میں صلح کرائے گا اس طرح خدا کے رسول کی پیش گوئی (حدیث)بعینہ سچی ثابت ہوئی۔

3۔آپ نے فرمایا!لا تقوم الساعة حتي تقتل فلتان عظيمتان تكون بينهما مقتلة عظيمة وعوامها واحدة الحديث

(صحیح بخاری)قیامت سے پیشتر دو جماعتوں میں سخت جنگ و جدال ہوگا۔اور دونوں کے دونوں مسلمان ہوں گے۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  و معاویہرضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے درمیان عرصہ تک تنازع رہا ا س کے شواہد میں معرکہ صفین پیش نظر رہے جس میں دونوں اپنے کو خلافت کا حقدار ٹھیراتے رہے۔

4۔رسول اللہﷺ نےسراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا تھا۔كيف بك اذا لبست سواري كسري (بیہقی)تیری کیا شان ہوگی جب تجھے کسری بن  ہرمز کے کنگن پہنائے جایئں گے۔سراقہ  وہی سراقہ جن کو  کفار نے حضورﷺ کو جان سے مارڈالنے کے لئے آمادہ کیا تھا اور انعام بھی مقرر کیے تھے۔سراقہ نے چند نوجوانوں کے ہمراہ حضور ﷺ کا پیچھا کیا۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ان کو دیکھا تو آپ سے فرمایا دشمن یہاں تک آ پہنچا جواب ملا۔ان الله معنا خوف کی کوئی بات نہیں۔اللہ ہمارے ساتھ ہے ادھر سراقہ اپنے گھوڑے کی باگ تیز کرتے ہوئے بالکل نزدیک پہنچ گئے خدا کی شان کہ یک لخت ان کے گھوڑے کے پائوں زمین میں دھنس گئے وہ بہت ہی پریشان ہوئے اور آپ کے نبی ہونے کا یقین ہوگیا۔او ر گویا ہوئے اے محمدﷺ!آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔اب مجھ سے ایسی حرکت نہ ہوگی۔بلکہ جو شخص میرے پیچھے آپ کی گرفت کے لئے آرہا ہے ۔اس کو بھی واپس کر لوںگا۔مجھے اس بلا سے نجات دلایئے۔آپ نے دعا فرمائی وہ نجات پاگئے پھر سراقہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ جب آپ مکہ پر فاتح کی حیثیت سے آیئں گے۔تو شاہد ہیں آپ کی فوج سے مارا جائوں اس لئے ایک دستاویز لکھ دیجئے کہ میں اس وقت اس کو دکھلا کر آپ کی فوج میں امن سے رہ سکوں آپ نے حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا!لکھ دو حکم کی تعمیل کی گئی۔سراقہ نے اس کو اپنے گلے کا تعویز بنا لیا جب مکہ فتح ہوا  تو سارے کے سارے قید کیے جارہے تھے۔اس وقت سراقہ نے حضور ﷺ کادیا ہوا امن نامہ دکھلایا۔لوگوں کو بہت تعجب ہوا اور ان کو پکڑ  کر حضور ﷺ کے دربار میں لائے ۔آپ ﷺ نے فرمایا میرا ہی دیا ہوا ہے۔سب نے ان کو اپنے دامن میں لے لیااور سراقہ سے فرمایا۔كيف بك اذا لبست سواري كسري اب دیکھئے یہ پیشن گوئی ٹھیک اس طرح ظاہر ہوتی ہے۔جس طرح آپ نے فرمایا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عہد خلافت میں 21ہجری؁ میں ایران فتح ہوا ایران کے بادشاہ کے خزانے اونٹوں پر لاد کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے دربار میں لائے گئے۔سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بھی اس فتح میں پیش پیش  تھے۔بیہقی کی دوسری روایت میں ہے۔کہ سراقہ کو جب ہرمز کے کنگن پہنائے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے۔کہ جس نے کسریٰ بن ہرمز جو اپنے آپ کو رب الناس کہلاتا تھا۔کے کنگن چھین کر سراقہ اعرابی مدلجی کو پہنائے۔امام شافعی ؒ نے فرمایا!کہ یہ کنگن نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق پہنائے گئے۔اور حضرت سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس وقت تک زندہ رہے فتح ایران کے چند سال بعد 42ہجری؁ میں دنیا سےکوچ کرگئے۔

5۔عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ

صلي لنا رسول الله صلي الله عليه وسلم العشاء في اخر حياته فلما سلم قام فقال اريتكم ليلتكم هذه فان راس مائة سنة منها لا يبقي ممن هو علي ظهر الارض احد

(بخاری کتاب العلم)نبی کریم ﷺ کا یہ دستو ر تھا۔کہ جب کوئی اہم بات بتانی مقصود ہوتی تو پہلے اکثر سوال کے طریق پر کلام کو شروع فرماتے اپنی آخری حیات میں صحابہ کرام کو عشاء کی نماز کے بعد فرمایا کہ اس تاریخ اس مہینے کو نوٹ کرلو۔کیونکہ سو سال کے بعد سب دنیا کو خیر آباد کہہ دو گے۔یعنی تم میں کا ایک بھی روئے زمین پر  باقی نہیں رہے گا۔چنانچہ آپ کا سچا فدائی عامر بن طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سو سال کے آخری دن بعد عصر اس دنیا سے رحلت کر جاتا ہے سچ ہے۔

حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے

کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

6۔آپ ﷺ نے فرمایاتھا۔کہ  الخلا فة ثلثون سنتم ثم تكون ملكا(احمد ابو داود۔ترمذی)یعنی خلافت 1راشدہ تیس سال تک رہے گی۔

اس کے بعد بادشاہت ہوجائے گی۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے فوت ہوجانے کے بعد

1۔خلفائے راشدہ پانچ ہوئے ہیں۔حضرت ابو بکر و عمر۔و عثمان و علی وحسن رضوان اللہ عنہم اجمعین حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خلافت بھی چھ مہینے رہی امام  نووی نے اپنی کتاب تہذیب الاسماء جلد اول ص158 میں زکر کیا ہے۔تاریخ الخلفاء سیوطی ص74 میں اسی طرح امام ابن قتیبہ کی کتاب الامامت وسیاست مطبوعہ مصر ص135 میں دیکھو اسی طرح کل تاریخوں میں مرقوم ہے۔

حضرت حسن خلیفہ ہوئے۔جوں ہی خلافت کو تیس سال پورے ہوئے۔حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی سپرد کر کے دست بردار ہوجاتے ہیں۔

7۔انكم ستفتحو ن ارضا يذكر فيها القيراط فاستوصو اخير ا فان لهم زمة ورحما فلاذا رايتم رجلين يقتتلان علي موضع لبنة فاخرج منها

(مسلم)ابو زر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! تم عنقریب اس ملک کو فتح کرلوگے جہاں  سکہ قیراط ہے۔تم وہاں کے لوگوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا۔

کیوں کہ ان کے زمہ اور رحم کے حقوق حاصل ہیں پھر ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا جب تم دو آدمیوں کوایک اینٹ برابر زمین پرجھگڑتے دیکھنا تو وہاں سے چلے آنا اس حدیث میں دو پیش گویئاں ہیں۔اولفان لهم ذمة ورحماحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عہد خلافت میں حضرت عمر بن عاصرضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے مصر کو فتح کیا۔تو عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس خط لکھا کہ یہاں کے باشندوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہلهم ذمة ورحماان کے ساتھ رحما اچھا برتائو کرو۔یہ سن کر حضرت عمر بن عاصرضی اللہ تعالیٰ عنہ  سب قیدیوں کو رہا کر دیتے ہیں۔زمہ دار رحم اس لئے فرمایا تھا کہ مصر آپ کا  یہاں سسرارج مل تھا۔کیونکہ حضرت ہاجرہ ؑ اور ماریہ قبطیہ ام ابراہیم بن  رسول اللہ ﷺ مصر کی باشندہ ہیں۔بیہقی اور ابو نعیم میں مصر کا لفظ صراحتہ موجود ہے۔ دوماذا رايتم رجلين يقتتلان علي موضع لبنة فاخنهافتح مصر میں ابو زررضی اللہ تعالیٰ عنہ  موجود تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ ربیعہ اور عبد الرحمٰن بن شرجیل اینٹ برابر زمین کے لئے جھگڑ رہے ہیں۔اسی وقت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وہاں سے چلے آتے ہیں۔دیکھا چند ہی سال کے بعد مصر بھی فتح ہوا اور اس کے سارے واقعات سچے ثابت ہوئے۔ سچ کیو ں نہ ہو جب کہ صادق المصدوق کا ارشاد ہے ۔

8۔دشمنوں کے حملوں کی خبر سن کر مدینے کے ارد گرد سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی رائے کے مطابق خندقیں کھودی جانے لگیں۔آپﷺ بھی صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے ہمراہ مٹی ڈھونے میں مصروف تھے۔اور زبان مبارک سے یہ رجز ادا کررہے تھے۔

والله لولا انت ما التديتا ولا وتصدقنا ولا صلينا فانزلنا سكينة علينا ان الاولي قد يفوا علينا

اسی اثنا میں ایک بڑا پتھر نمودار ہوا جس پرکدال کا بالکل اثر نہ ہوتا تھا۔آپ ﷺ کو جب خبر ہوئی تو کدال دست مبارک سے تھاما۔اور تین ضربیں لگایئں۔پہلی میں ایک  تہائی پتھر ٹوٹ گیا فرمایا!الله اكبر اني اعطيت مفاتح الشاممجے ملک شام کے خزانے عطا کے گئے۔خدا کی قسم میں وہاں کے سرخ سرخ پتھروں کو دیکھ رہاہوں پھر دوسری ضرب لگائی ایک تہائی پتھر ٹوٹ گیا۔فرمایا  الله اكبر اني اعطيت مفاتح الفارس والله اني لابصر تصر المدائن الابيض

مجھے ملک فارس کے خزانے یا کنجیاں عطا کی گئیں۔واللہ میں مدائن کے سفید محلوں کودیکھ رہاہوں۔ تیسری ضرب لگائی پتھر ریزہ ریزہ ہوگیا۔اور   فرمایا۔الله اكبر اني اعطيت مفاتح اليمن والله اني لا بصر ابواب صنعا ء من مكاء الساعة

مجھے ملک یمن کی کنجیاں عطا  کئ گئیں۔واللہ میں اس وقت یہاں سے شہر صنعاء کے دروازوں کو دیکھ  رہا ہوں (بیہقی وابو نعیم)یہ سارے ممالک خلیفہ  ثانی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عہد خلافت میں فتح ہوئے۔مگر غور کرنے کی بات کہ اسلام اس وقت بالکل غربت و کمزوری کی حالت میں تھا۔پھر اس وقت ان ممالک کی فتوحات کی پیش گوئی کرنا سوائے اللہ کے نبی ﷺ کے دوسرے لب  ہلا نہیں سکتا۔

9۔عن ابي هريرة ان رسول الله صلي الله عليه وسلمتلا هذه الاية وان تتولوا يستبدل قوما غير كم ثم لا يكون امثالكم قالو يا رسول الله صلي الله عليه وسلم من هولاء الذين ذكر الله ان تولينا استبدل لو به ثم لا يكونو امثالنا فضرب علي فخذ سلمانالفارسي ثم قال هذا وقومه ولو كان الذين عند الثريا لتنا والرجال من اهل الفارس

(رواہ ترمذی۔مشکواۃ جلد 2 صفحہ 58)رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعینکی مجلس میں سیرت محمد ﷺ کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔

وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَ‌كُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم ﴿٣٨

ترجمہ۔اگر تم اللہ کے حکم سے روگردانی کر وگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کر دےگا۔پھر  وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعیننے دریافت فرمایا وہ کون حضرات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زکر فرمایا کہ اگر روگردانی کرلیں تووہ ہم سے بہتر قوم سے آئے گا۔آپ نے سلمان فارسیرضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے  ران پر  ہاتھ رکھ کر بتایا کہ یہ اور اس کی قوم لو كان الذين الثريا لتنا وله رجال من الفرساگر دین ثریا تک بھی چلا جائے جب بھی فارس کے لوگ اسےڈھونڈھ لائیں گے یعنی اسلام قریب المرگ بھی ہو جہالت پھیل گئی۔ہو اس وقت دین کاجہاں بھی کچھ چرچا ہوگا فارس کےی باشندے اسے ڈھونڈھ لایئں گے اب اس پیش گئی کے مطابق امام بخاری امام مسلم ابو دائود۔ترمذی نسائی ۔ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیم کے سوانح پر غور کرو کہ وہ سب حضرات ملک فارس کے باشندے ہیں بخاری کے جامع ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل  بخاری ۔مسلم کے ابو الحسن مسلم بن حجاج نیشا پور ۔ابوداود کے جامع ترمذی کے ابو عیسیٰ محمد بن سورہ قریہ بوغ نسائی کے جامع ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب نسا۔ابن ماجہ کے ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن عبد اللہ ابن ماجہ ربعی قروین کے باشندے ہیں اور یہ سب  مقام فارس ہی میں واقع ہیں۔

10۔يوشك الرجل متكئا علي اريكته يحدث بحديث من حديثي فيقول بينكم كتاب الله عزوجل فما وجدنا فيه من حلال اسحللناه وما وجد نا فيه من حرام حرمنا ه الا وان ما حرم رسول الله مثل ما حرم الله ابن ماجه باب تعظيم حديث رسول الله صلي الله عليه وسلم

آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے تحت مسند پر  بیٹھا ہوا ہوگا جب اس کی کوئی حدیث میری حدیثوں میں سے سنائی جائے گی تو وہ کہے گا بس ہمارے تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی فیصلہ کرنے والی ہے۔پس جو کچھ ہم اس میں حلال پادیں گے صرف اسی کو حلال جانیں گے۔اور جوکچھ اس میں حرام پاویں گے اسی کو حرام جانیں گے۔خبر دار سن رکھو جو کچھ رسول اللہﷺ نے حرام کیا ہے۔وہ مثل اس کے ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔اس پیش گوئی کے مطابق ہم مولوی عبد اللہ چکڑالوی وغیرہ کو پاتے ہیں۔جو اپنی مسند پر بیٹھ کر احادیث نبویہ سے  انکار کرتے ہیں اور ان کی توحین کرتے ہیں صرف  کتاب اللہ کو بیان شرائع کے لئے کافی خیال کرتے ہیں۔اور اپنے بے اصول و بے قاعدہ اجتہاد سے جیسی بن آوے ہانک دیتے ہیں۔

11۔عن عدي بن حاتم قال بينا انا عند النبي صلي الله عليه وسلماذا فاه رجل فشما اليه الفقة ثم جاءه اخر فشكا اليه الفاقة ثم جاءه هل رايت الحيوة قلت لم ارها وقدانبئت عنها قال فان طالت بك حياة لترين الظعينة ترجل من الحيرة حتي تطوف بالكعبة لا تخاف احدا الا الله قلت فيما بيني وبين تفسي فاين دعا ء الذين قد سعر والبلاد (الحديث)

(بخاری پارہ نمبر 14) عدی بن حاتم طائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے حضور میں بیٹھا تھا کہ  ایک شخص آیا اس نے فاقے کی شکایت کی دوسرا آیا اور اس نے  ڈاکوئوں کی شکایت کی آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عدی اگر تمہاری عمرلمبی ہوئی تو تم دیکھ لوگے۔کہ ایک بڑھیا حیرہ سے اکیلی چلے گی اور خانہ کعبہ کا طواف کرے گی وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی ہوگی عدی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں ہی کہا کہطے کے ڈکیت کدھر جایئں گے جنہوں نے تمام بستیوں کو اجاڑرکھا ہے پھر فرمایا ۔

ولئن طالت بك حيوة لتفنحن كنوز كسري بن هريز قلت كسري ابن هرمز قال كسري ابن هرمز

اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے کو کھولو گے  ۔میں نے کہا کسریٰ بن ہرمز فرمایا کسریٰ بن ہرمز۔پھر فرمایا

ولئن طالت بك حيوة لترين رجل يخرج ملاء كفه من ذهب اوفضة يطلب من يقبله فلا يجد احدا يقبل منه

اگر  تیری عمر دراز ہوئی تم دیکھوگے کہ زکواۃ کا مال لوگدر در لئے  پھریں  گے مگر اس کا قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا کہ میں نے اسیس  بڑھیا کو بھی دیکھا  جو کوفہ سے تن تنہا حج کوآئی تھی۔اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف نہ تھا میں خزائن کسریٰ کی فتح میں تو شامل ہی تھا۔

ولئن طالت بكم حيوةلترون ما قال النبي صلي الله عليه وسلم ابو القاسم  صلي الله عليه وسلم  يخرج ملا ء كفه

اور تیسری بات کہ اےلوگے تم دیکھ لو گے امام بہیقی کہتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز  کی سلطنت میں تیسری بات پوری ہوگئی وہ وقت ایساتھا کہ ذکواۃ نکالنے والے کو تلاش کرنے پر بھی فقیر نہ ملتا تھا۔اور وہ اپنا مال گھر لے جایا کرتا تھا۔

12۔لا تقوم الساعة حتي بيبعث دجالون كذابون قريبا من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله صلي الله عليه وسلم

(بخاری ص509 پ 14)آپ ﷺ نے فرمایا!کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک میری امت میں تیس دجال کذاب نہ ہولیں۔ہر ایک ان میں سے یہ دعویٰ کرے گا کہ  میں اللہ کا نبی ہوں اس حدیث کے مطابق ہم اپنے زمانے میں مرزا قادیانی کادعویٰ دیکھتے ہیں جن کی ایک بات بھی صحیح نہیں۔گزشتہ اقساط میں 12 پیش گویئاں درج کی جاچکی ہیں۔اب اس کے آگے ناظرین کرام! مطالعہ فرمایئں اُسی کی ضمن میں دوسری حدیث پیش کرتا ہوں۔اس کے بعد آگے قدم بڑھائوں گا۔

ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال بينما انا نا ئم رايت في يدي  سوا رين من ذهب فا همنيشانهما فاوليفي المنام ان انفخهما فنفختهما فارافاولتهما كذابين يخرجان بعدي فكان احدهما العنيسي والاخر مسيلمة صاحب اليمامة

(بخاری پارہ 14) صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے رسول اللہﷺ نے اپنے ایک خواب کی کیفیت بیان کی۔فرمایا کہ میں نے آج نیند میں اپنے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے مجھے اس سے بہت ہی  نفرت ہوئی اور بہت شاق گزرا اسی وقت حکم الہٰی ہوا کہ تم ان دونوں کو پھونگ دو میں نے ویسا ہی کیافورا دونوں مجھ سے دور ہوگئے۔پھر اس ک بعد اس کی تاویل بیان فرمائی کہ دو کنگن سے مراد یہ ہے کہ دو کذاب مدعی نبوت میرے بعد ہی نکلیں گے راوی نے کہا  کہ وہ مسیلمہ اور عنسی ہے۔نیز نفخ سے پتہ چلا کہ وہ دونوں ہلاک ہوں گے۔اور کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے۔عنسی کا عر وج آپﷺ کی آخری حیات میں ہوا۔اور مقام صنعا میں اس کے بہت سے معتقد ہو گئے۔صنعا میں رسول اللہ ﷺ کے عامل بازاں سے ظلما ان کی بیوی تلف ہوگئی اوریہی اس کی موت کی سبب بنی۔جب عنسی نے مرزبانہ کو اپنے گھر میں بند کردیا اور جبرا اس سے نکاح کرلیا توف ادویہ نامی ایک آدمی نے کسی موقع سے اس کے گھر میں گھس کر اس  کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اور مرزبانہ کو نکال کر لے آیا۔بالاخر معمولی سی جھڑپ کے بعد اس کے معتقدوں کا کام بھی تمام ہوگیا اسی طرح مسیلمہ کذاب کا عروج خلافت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں ہوا۔اور  اس کے پیروں کی تعداد ٖغالباً ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔مسلمانوں سے  سخت لڑائی ہوئی اس کو وحشی نے اس طریقے سے مارا جس طرح حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی شہید کیا تھا وحشی نے اس کے بعد کہا کہ میں نے حالت کفر میں خیر الناس کو قتل کیا تو اسلام کی حالت میں ایک شرار الناس  کو  بھی جہنم رسید کردیا۔حضرات اگرچہ یہ پیش گوئی نہیں تھی۔تاہم یہ حدیث کے صحیح ثابت ہونے کا ثبوت ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ آپﷺ کو خواب میں بھی وحی آیا کرتی تھی۔قرآن نے تو صاف صاف بتا دیا ہے جیسا کہ فرمایا۔

لَّقَدْ صَدَقَ اللَّـهُ رَ‌سُولَهُ الرُّ‌ؤْيَا بِالْحَقِّ

پس میرے دوستو! کیا اتنی واضح اور روشن دلیل کے باوجود بھی احادیث نبویہ حجت نہ تسلیم کی جایئں گی۔

13۔ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال لا تقوم الساعة حتي تخرج نار من ارض الحجاز تضي اعناق الابل ببصري

قیامت نہیں آئے گی جب تک حجاز میں ایسی آگ رونما نہ ہو جو بصریٰ کے اونٹوں پر اپنی روشنی ڈالے یہ پیش گئی صحیحین میں مرقوم ہے۔اور 654 کے بعد ثابت ہوئی۔یہ  آگ پہلی جمادی الثانی 654؁ھ میں حجاز سے نمایاں ہوئی دوسرے روز بڑے زوروں کا زلزلہ آیا شدت و حرارت کی روز افزوں کی ترقی ہوتی رہی اس کا شعلہ بحر موج سے مقابلہ کر رہاتھا۔اس کی  روشنی بہت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی حالانکہ بصرہ کے بدووں نے بھی اپنے اپنے اونٹوں کی شناخت اسی روشنی کی  بدولت کی حالانکہ حجاز اور بصریٰ کے درمیان کافی دوری ہے۔اس کی لپٹ سے کتنے ہی انسان و نباتات جھلس گئے۔جمادات  پگھل پڑے۔چرند و پرند کے بھاگنے کا ٹھکانہ نہ تھا۔روز بروز اس میں بڑھوتر ی ہورہی تھی۔ اس  کا رخ شہر مدینہ کی طرف بڑھتا گیا۔جمعہ  کی شب کو باشندگان مدینہ نے مسجد نبوی ﷺ میں بڑے ہی گریہ زاری اور تضرع کے ساتھ کاٹی باوجود اس شدت وحبن کے مدینہ طیبہ مامون رہا۔اور اس کا کچھ اثر نہ ہوا اس کے علاوہ آتش فشانی کی کیفیت لکھنے والوں نے مختلف انداز میں تحریر کی ہے۔

14۔قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتي تقاتلواالترك صغرا الاعين حمر الوجوه ذلف الانوف كان وجوههم المجان المطرقة

(بخاری باب قتال الترک جلد اول و مسلم ج2 ص 395) قیامت نہ قائم ہوگی جب تک تم ان ترکوں سے جنگ نہ کرلوگے جو چھوٹی چھوٹی آنکھوں والے سرخ چہروں والے پست ناک والے ہوں گے۔ان کے چہرے ڈھال جیسے ہوں چوڑے ہوں گے۔بخاری مسلم دونوں میں یہ روایت موجود ہے۔رسو ل اللہﷺ کی یہ پیش گوئی تھی کہ تم ترکوں سے ضرور مقابلہ کرو گے پھر ان کے حلیے سے بھی متنبہ فرمادیا تھا۔چنانچہ 656ہجری میں ہلاکو خان کے لشکروں نے خراسان و وعراق پر سخت خون ریزی او ر لوٹ مار کی اس کو بھی ایشیاء کوچک میں شکست عظیم ہوئی۔

15۔اتركوا لترك  ما تركوكم فلانهم اول من يسلب امتي ملكهم

(طبرانی۔ابونعیم بروایت)ابن مسعود طبرانی نے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فر مایا تھا۔کہ ترکوں کو نہ چھیڑنا جب تک کہ وہ تم سے  چھیڑ خوانی نہ کریں کیونکہ یہی وہ قوم   ہے جو سب سے پہلے میری امت سے ان کا ملک چھین لے گی۔اب دیکھیے۔یہ واقعہ ساتویں صدی ہجری میں حدیث کے مطابق ظاہر ہوا اور انھیں ترکوں نے سلطنت عباسیہ کا خاتمہ کیا اور مستعصم باللہ خلیفہ بغداد  مارا گیا کتب خانہ دریائے دجلہ میں پھینگ دیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ مہینوں تک اس کا پانی سیاہ ہوتارہا۔مقام غور طلب ہے کہ سات سو سال پہلے جس واقعے کا اظہار آپﷺ نے اپنے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے کر دیاتھا۔ٹھیک اسی طرح اس کے مطابق ظاہر ہوا۔اس لئے اس سے  الفاظ حدیث کی صحت کا کمال یقین حاصل ہوا۔

16۔خذها خالدة قالدة لاينزعها يانبي ابي طلحة منكم الاظالم

(استعاب ابن عبد البر فتح مکہ 20 رمضان سن8ھ؁ جس وقت کہ مکہ پر مسلمان قابض ہوئے اس وقت رسول اللہﷺ نے بیت اللہ کی کلید طلب فرمائی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے شیبہ کے گھرانے سے کلید لاکر بیت اللہ کھولا اس کے بعد اس کو واپس دینے سےانکار کر دیا۔حضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا!کہ اسلام کسی کی حق تلفی کے لئے نہیں آیا ہے۔اس کا حق تلف نہیں کیا جاسکتا مختصر یہ کہ آپ نے شیبہ کو بیت اللہ کی چابی واپس دیتے ہوئے فرمایا کہ تم یہ کنجی سنبھالو ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے تم سے وہی شخص چھینے گا جو ظالم اور بدمعاش ہوگا۔ہزاروں کی تعداد میں حاجیوں کا گروہ ہر سال بیت اللہ کی زیارت کےلئے مکہ شریف جاتا ہے۔کوئی دریافت کرے کہ  کیا خاندان ابو طلحہ کی نسل باقی ہے یا نہیں؟بیت اللہ کی کنجی انھیں کے ہاتھ میں ہے یا نہیں یقیناً اثبات میں جواب پائے گا۔دوستو! اگر رسول عربی ﷺ کا کلام غلط ہوتا تو کچھ دیر کے لئے تسلیم کر لیا جاتا مگر نہیں ۔انہوں نے ایک لفظ بھی خواہش نفسانی سے نہیں کہا۔حضرات آج تک  8 ہجری  کی پیش گوئی برقرار ہے۔کیا اب بھی ہم اھادیث نبویہ سے روگردانی کریں گے۔کلاوحاشا۔

17۔مسنداحمد اور مسلم جلد نمبر 2 ص 392 میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے طول عبارت کے ساتھ مروی ہے۔کہ آپ نے فرمایا  تھا۔يفتحون قسطنطنيهیعنی  آپ نے لوگوںکو فتح قسطنطنیہ کی بشارت دی تھی۔اسی طرح ابودائود (جلد 2 ص235) میں معاذ بن جبل  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے منقول ہے۔

قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم الملحمة الكبري فتح القسطنطنية

(الحدیث 855 ہجری (1352 عیسوی) میں محمد فاتح سلطان نے فتح کیا یعنی کتاب مسند سے چھ صدیوں اور سال ہجرت سے ساڑھے آٹھ صدیوں کے بعد حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق لوگوں نےاسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔مگر قربان جائیے محدثین کی صداقت اور دیانت پر کہ انہوں نے کس وثوق  کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کو دفتر حدیث میں جگہ دی۔جو ان سے کئی صدیوں بعد سچی ثابت ہوئیں۔

18۔تفترق امتي علي  ثلثة وسبعين فرقة

(بیہقی و حاکم وطبرانی) آپ ﷺ نے فرمایاتھا کہ میری امت کے تہتر فرقے بن جایئں گے۔دیکھئے آج تیرہ سو سال سے زیادہ اس پیش گوئی کو ہو رہے ہیں۔لیکن اسی طرح یہ حدیث بتا رہی ہے۔جس طرح آپﷺ نے فرمایا تھا۔کیا آپ غور نہیں کرتے۔کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خلافت کے آغٖاذ  تک وہی و احداور جامع نام سب کا رہا جیسا کہ قرآن حکیم نے بتلایا۔

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ

یعنی ابراہیم ؑ نے  تمہارا نام مسلمان رکھا۔لیکن خروج خوارج کے بعد نئے نئے فرقے رونما ہو رہے ہیں۔جیسے منکر حدیث ۔قادیانی بریلوی وغیرہ۔اور ان سب کو ہی ان ناموں  پر ناز ہے۔یہ  پیش گوئی حقیقت میں نصف النہار کی طرح ہدایت و صداقت کے ساتھ ہیں اور رو ز روشن ہے۔انصاف کی ر و سے ان کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھو تو تمھیں اس کی صداقت اچھی طرح معلوم ہو جائے گی۔اور تعصب کا سد باب ہوجائے گا۔

19۔اسی طرح بہت سی حدیثیں  پیش گوئی کے باب میں درج ہیں۔لیکن دو ایک اور بھی ذہن نشین کر لیں۔اور امام بیہقی نے بروایت عبد الرحمٰن بن عبد الباری بیان کیا ہے۔کہ جب کسری بن ہرمز بن پرویز نے آپﷺ کے فرمان دعوت اسلام کو  پڑھ کر پھاڑ ڈالا تھا۔تو آپ نے خبر پاتے ہی اس نہ ہنجار کے حق میں فرمایا۔فرق كسري ملكهیعنی کسریٰ نے اپنی سلطنت کو چاک کر ڈالا۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آخری کسریٰ خلیفہ راشد حضرات عثمان ذی النورین کے لشکر سے ہلاک ہوتا ہے۔اور پھر اس سلطنت کا نام و نشان دنیا سے مٹ جاتا ہے۔

تتمه مضمون حديث

اس کے ثبوت میں ایک ایسی بین واضح حدیث قلم بند کرتگا ہوں جو کم فہم و زی فہم دونوں ےکے لئے برھان قاطع ہوگی اور حسن ظن ہے کہ منکرسنت نبویہ راہ راست پر  آجایئں گے۔رسول اللہ ﷺ نے تمام بادشاہوں کے پاس اسلام کے پیغام ارسال فرمائے تھے ان میں سے آپﷺ کا وہ خظ جو آپ نے مصر و اسکندریہ کے بادشاہ مقوقش کے نام لکھوایا ۔درج زیل ہے۔

بسم الله الرحمان الرحيم من محمد عبد الله ورسوله الي المقوش عظيم القبط سلام علي من اتبع الهدي اما بعد فاني ادعوك بدعاية الاسلام اسلم تسلم يوتك الله اجرك مرتين فان توليتفانما عليك اثم اهل القبط ويا اهل الكتاب تعالوا الي كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد الاالله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون

(زادلمعاد جلد 1) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔خدا کے بندے اور اور اس کے ر سول محمد ﷺ کی طرف سے قوم قبط کے بادشاہ مقوقش کی طرف سلام ہو اس پر جو ہدایت کا پیرو ہو۔بعد ازیں یہ کہ میں تمکو  اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ اسلام لے آئو تو بچ جائو گے۔اور تم کو اللہ تعالیٰ دگنا ثواب دے گا۔اوراگر روگردانی کرو گے تو ساری قوم قبط کا گناہ تم پر ہوگا۔اور اے اہل کتاب ایک ایسی بات کیطرف آئو جو ہمارے اور تمہارے درمیان  برابر ہے۔کہ ہم اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کریں۔اور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ گردانیں۔اور ہم میں سے کوئی بھی کسی کو خدا کے سوا رب نہ مانے۔پس اگر وہ (اہل کتاب) روگردانی کریں تو اے مسلمانو! تم کہو!(اے لوگو)تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔اس خط کو آپ ﷺ نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی معرفت روانہ کیا۔انہوں نے دربار شاہی میں عام مجمع کے سامنے بادشاہ کو مخاطب کر کے نہایت پر اثر تقریر کی۔اور  اس ملک کے بادشاہ فرعون کی طغیانی و سرکشی اور اس کے انجام پر عبرت کی نصیحت کی بادشاہ نے آپ ﷺ کے اس مبارک خط کو ہاتھی دانت کے ایک نفیس ڈبے میں بند کر کےتوشہ خوانوں میں نہایت ہی حفاظت سے رکھ چھوڑا۔اور قاصد کو بہت کچھ تحفے تحائف دے کر واپس کیا یہ خط اسی طرح محفوظ رہا۔جس طرح انہوں نے رکھا تھا۔حتی ٰ کہ اس کے ظہور کا وقت آیا۔ اور عیسایئوں کی ایک خانقاہ سے خلیفۃ المسلمین سلطان عبد الحمید خان صاحب کی خدمت میں پہنچا انہوں نے اس کا فوٹو چھپا کر تمام اطراف و اکنات میں شائع کرایا۔چنانچہ مجھے بھی جناب مولانا و استانا ابو القاسم صاحب سیف بنارسی مد ظلہ نے دکھلایا۔خدا کا ہزار ہزارشکر ہے کہ اس نے اپنے پاک خلیل سرور کائنات رسول اللہ ﷺ کے خط کا نقش دکھایا اور ہم کو اس کے پاک کلمات کے یاد کرنے والوں اور لوگوں تک پہنچانے والوں میں بنایا۔یہ نقش احادیث نبویہ کی  صحت پر اس طرح شہادت دیتا ہے کہ اس کے الفاظ بالکل وہی ہیں جو کتب حدیث میں حفاظ سے مروی ہیں۔اور اس کی دوسری شہادت احادیث نبویہ کی صحت  پر یہ ہے کہ صحیح روایتوں میں روایت ہے کہ جب آپ ﷺ نے مختلف حکمرانوں (بادشاہوں) کے نام خط لکھوانے شروع کیے۔تو صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے مشورہ دیا کہ عجمی باشاہ نے مہر خط نہیں پڑھتے تو آپ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر محمد رسول اللہﷺ کا نقش تین سطروں میں اوپر نیچے لکھوایا سب سے نیچے سب سے اوپر اللہ وسط میں رسول اور سب سے نیچے محمدتھا بعینہ اسی طرح اس فوٹو میں ہے۔جس طرح آپﷺ نے بنوایا تھا۔ان دونوں شہادتوں سے ہماری تصدیق ہوتی ہے۔

مسلمانوں اگر یہ حدیثیں وحی  الٰہی نہ ہوتیں تو اس طرح آپ کے فرمان کے مطابق نہ ثابت ہوتیں۔یقیناً یہ خداکی بتلائی ہوئی باتیں ہیں۔رسول کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے۔تمام پیش گویئاں اپنے وقت پر ظاہر ہویئں۔اور ہوں گی۔دراصل سچے رسول کے پرکھنے کی یہی کسوٹی ہے۔آخر میں یہ عاجز اللہ سے دعا کرتا ہے۔کہ اللہ رب العزت ہمیں اور ہمارے تمام بھایئوں کو اپنے رسول ﷺ کی احادیث پرکامل طور سے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(اخبار محمدی دہلی جلد نمبر 18 ش 24)

مفتی فضیلۃ الشیخ حسنین محمد مخلوف


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 62-80

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)