فتاویٰ جات: نفسیات
فتویٰ نمبر : 3111
اوہام و وساوس کا علاج
شروع از بتاریخ : 28 May 2013 03:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے دماغ میں عجیب خیال پیدا ہوتا ہےمیں کلمہ طیبہ پڑھتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ھے کہ میں نے غلط پڑھا ہےحالانکہ درست پڑھنے کے باوجود کلمہ طیبہ بار بار پڑھتا ہوں کیوں کہ مجھے خیال آتے ہیں کہ میں نے غلط پڑھا ھےاسی طرح جب پڑھنے بیٹھتا ہوں تو اپنے سبق یاد کر لینے کہ باوجود یہی خیال آتا ہے کہ میں نے غلط یاد کیا ہے اسی طرح جب نماز پڑھتا ہوں تو یہی خیال آتا ہے کہ میں نماز میں جو کچھ پڑھ رہا ہوں غلط ہے حالانکہ صحیح پڑھتا ہوں۔؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا حل بتائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کو وسوسہ اور وہم کا مرض لاحق ہے۔ اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو اس وسوسے كى بيمارى سے شفايابى نصيب فرمائے؛ كيونكہ وسوسہ ايک ايسى بيمارى ہے جس كے راستہ سے شيطان داخل ہو كر مؤمن كو غمزدہ اور پريشان كرتا ہے، ہم آپ كو صبر كى تلقين كرتے ہيں، اور آپ سے گزارش ہے كہ آپ اللہ كى طرف رجوع كريں، اور اسى سے عافيت و درگزر كا سوال كريں، يقينا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا ہے.

اور آپ كو يہ بھى علم ميں ہونا چاہيے كہ وسوسے كا سب سے بہتر علاج وسوسے سے اعراض كرنا ہے، اور اس كى طرف دھيان نہ دينا ہے. اگر نفس میں کسی قسم کا تردد ہو توجب اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا جاۓ گا اوراس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوا جاۓ تو وہ تردد اوروسوسہ کبھی بھی نہیں ٹھر سکتا بلکہ کچھ لمحہ کے بعد ہی وہ غائب ہوجائے گا ، جیسا کہ اس کا تجربہ بھی بہت سے اچھے لوگوں نے کیا ہے ۔

لیکن اگر اس کی طرف متوجہ ہوکراوردھیان دے کر اس کے تقاضے پر عمل کیا جاۓ گا تو وہ اورزيادہ ہوتا چلا جاۓ گا حتی کہ اسے مجنونوں اورپاگلوں تک پہنچا دے گا بلکہ اس سے بھی قبیح شکل میں لے جاۓگا ، جیسا کہ ہم نے بہت سے لوگوں کا مشاہدہ کیا ہے جو اس بیماری میں مبتلا ہوۓ اس کی وجہ سے شیطان اس کی طرف متوجہ ہوۓ

جس کے بارہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کرتے ہوئے کچھ اس طرح فرمایا :

( پانی کے وسوسہ ولھان سے بچو ) یعنی جوکچھ اس میں مبالغہ اورلھو ہے اس کی وجہ سے بچو جیسا کہ اس کے متعلق شرح مشکاۃ الانوار میں بیان کیا گیا ہے ، اورصحیح بخاری اورصحیح مسلم میں اس کی تائيد بھی آئي ہے جومیں نے ذکر کی ہے کہ جوبھی وسوسہ میں مبتلا ہو اسے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنی چاہیۓ اوروہ اس وسوسہ سے رک جائے۔

تو آپ اس علاج پر ذرا غور وفکر اور تامل کریں جسے ایسے شخص نے تجویز کیا ہے جو اپنی امت کے لیے خود بولتا ہی نہيں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)