فتاویٰ جات: تجوید و قراءات
فتویٰ نمبر : 3101
سبعہ قراءات اور سبعہ احرف میں فرق
شروع از بتاریخ : 27 May 2013 03:40 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک سوال جو کافی دیر سے میرے دماغ میں گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ قراءات اور احرف میں کیا فرق ہے۔؟ قرآن سات احرف میں نازل ہوا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جو مصحف تیار کروایا تھا وہ ان تمام احرف پر مشتمل تھا یا صرف ایک پر، اگر کئی احرف پر مشتمل تھا تو ایک مصحف میں اتنے سارے احرف کیسے آ گئے کیونکہ بعض اوقات تو قراءت میں واضح لفظوں کا اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔؟ جب احرف صرف سات ہیں تو قراءتیں کیوں 10 تو کبھی 25 بتائی جاتی ہیں۔؟اگر آپ چاہیں تو بیانِ دلائل کے تکلف کے بغیر اپنے الفاظ میں تفصیلا سمجھا دیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن مجید تو سات حروف میں نازل ہوا ہے ،سات قرءات،دس قراءات،پچیس قراءات یا اس سے کم و بیش جو عدد بیان کیا جاتا ہے ،یہ دراصل ناقلین قراءات کی تعداد ہے،جتنے قراء نے ان سات حروف کو نقل کیا ہوتا ہے وہ اتنی ہی قراءات شمار کر لی جاتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان قراءات کو قراء کرام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ،جیسے قراءات امام نافع،قراءات امام مکی وغیرہ،جیسے کوئی حدیث دس، بیس یا اس سے کم وبیش سندوں کے ساتھ مروی ہو۔

سبعہ قراءات اور سبعہ احرف کی تفصیلی مباحث پر مشتمل تین جلدوں میں ماہنامہ رشد قراءات نمبر چھپ کر منظر عام پر آچکا ہے ،آپ ان تین جلدوں پر مشتمل رسائل کا ضرور مطالعہ کریں۔

یہ تینوں رسائل ہماری ویب سائٹ کتاب و سنت ڈاٹ کام پر درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں۔

http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/list/urdu-islami-kutub/quran-aur-uloom-ul-quran/31-qirat-saba-wa-ashra.html

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)