فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 2882
اگر کوئی ذمہ دار شخص کو بارہ سنتوں کو واجب قرار دے تو کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 24 March 2013 04:20 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی ذمہ دار جو بارہ ۱۲ سنتیں ہیں ان کو واجب قرار دیتا ہے، کیا اس کی نافرمانی کرنی صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس ذمہ دار شخصیت سے یہ کہہ سکتا ہے کہ بارہ سنتیں ہیں، فرض واجب نہیں۔ البتہ ان سنتوں کی ادائیگی میں سستی و کوتاہی نہ کرے، کیونکہ روزِ قیامت فرض نماز کے علاوہ نفل نماز سے فرض نماز کی کمی کوتاہی پوری کی جائے گی۔ جیسا کہ سنن ابی داؤد   میں مذکور ہے۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے فرض نمازوں کے علاوہ روزانہ بارہ رکعتیں تطوع پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔‘‘  (صحیح مسلم)
چار رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دورکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد، اور دو رکعت نمازِ فجر سے پہلے۔

 

 فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 262۔263

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)