فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 2837
(32) ادویات میں شراب کا استعمال
شروع از بتاریخ : 18 March 2013 01:43 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 جن ادویات میں شراب کی آمیزش ہو ان کو بغرضِ دفاع دفاعِ استقامت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض میں از حد کم مقدار ہوتی ہے، بعض میں زیادہ، ہر دو طریق میں اس کا (نشہ) نہیں لاتی۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

… جس دوا میں شراب ہو اس کا استعمال جائز نہیں،نہ دوا کے طور پر، نہ غذا کے طور پر، کیوں کہ مسلم میں حدیث ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں صرف دوا کے لیے بناتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دوا نہیں  دَاء (بیماری) ہے۔
(مشکوۃ باب الخمر ووعید شار بہا فصل اوّل ص ۳۰۹) (تنظیم اہل حدیث جلد ۲۲ ش ۶)
(الجواب صحیح : علی محمد سعیدی جامعہ سعیدیہ خانیوال مغربی پاکستان)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارۃجلد 1 ص 40۔41


محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)