فتویٰ نمبر : 2757
(418) جھٹکا لگ جانے سے جانور مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 09 March 2013 08:32 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جھٹکا کئے ہوئے جانوروں کا چمڑا پاک ہے یا نہیں، اور اس کی تجارت درست ہے، یا نہیں۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو جانور جھٹکا سے مارا جاتا ہے وہ حکم میں مردار کے ہے اور مردار کا چمڑا بعد دباغت دینے کے پاک ہو جاتا ہے اور جب اس کا چمڑا پاک ٹھہرا تو جس طرح چاہے اس سے نفع حاصل کر سکتا ہے اس لیے اس کی اگر تجارت کی جائے تو جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب حررہ العبد العاجز عین الدین عفی عنہ (سید محمد نذیر حسین)
ھو الموافق:… جھٹکا کئے ہوئے جانوروں کا چمڑا قبل دباغت کے ناپاک ہے اور اس کی تجارت جائز نہیں اور بعد دباغت کے پاس ہے اور اس کی تجارت بھی جائز ہے۔ واللہ اعلم کتبہ محمد عبد الرحمن المبارکپوری عفی عنہ (الجواب صحیح : علی محمد سعیدی جامعہ سعیدیہ خانیوال مغربی پاکستان) (فتاویٰ نذیریہ جلد اوّل ص ۱۹۹)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)