فتاویٰ جات: فہم حدیث
فتویٰ نمبر : 273
بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے والی حدیث کی تحقیق
شروع از بتاریخ : 06 December 2011 04:20 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ "ایسا بدعتی جس کی بدعت شرک تک نہ پہنچی ہواس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔" اس سے کیا مراد ہے؟۔ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ایسی کسی حدیث کے بارے ہمیں علم نہیں ہے اگر آپ کے پاس اس کا کوئی حوالہ ہے تو نقل کریں۔ تحقیق کے بعد جواب ارسال کیا جائے گا۔ ہمارے علم کی حد تک یہ بعض فقہاء کا قول ہے جیسا کہ ’عقیدہ طحاویہ‘ میں نقل ہوا ہے۔اس قول سے مراد یہ ہے کہ جماعت کی نماز کی اہمیت زیادہ ہے اور کسی امام کے فاسق، فاجر یا بدعتی ہونے کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔

 اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ امام اسی کو بنانا چاہیے جو صحیح العقیدہ ، متقی ، پرہیزگار اور عالم دین اور قاری قرآن ہو۔لیکن اگر کوئی امام عالم دین یا قاری قرآن یا متقی یا صحیح العقیدہ نہ ہو یعنی بدعتی ہو تو اس صورت میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ صحیح العقیدہ مسلک کے حاملین کی مسجد تلاش کی جائے،

وباللہ التوفیق

فتویٰ کمیٹی

 

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)