فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2710
جانور اور پرندے پالنے کاحکم
شروع از بتاریخ : 07 March 2013 12:11 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاگھر میں خرگوش رکھے جا سکتے ہیں ،اس سے گناہ تو نہیں ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دیگر پالتو جانوروں کی طرح گھر میں خرگوش رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی جانور پالا کرتے تھے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی نے ایک چڑیا پال رکھی تھی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تشریف لاتے تو اس سے کہتے۔

" يا أبا عمير ما فعل النغير. نغر كان يلعب به" (متفق عليه)

اے ابو عمیر! تیری چڑیا کا کیا بنا۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔

" إن في الحديث دلالة على جواز إمساك الطير في القفص ونحوه ، ويجب على من حبس حيواناً من الحيوانات أن يحسن إليه ويطعمه ما يحتاجه لقول النبي "

اس حدیث سے پرندے کو پنجرے وغیرہ میں بند کرنے کے جواز پر دلیل ملتی ہے،اور روکنے والے پر واجب ہے کہ وہ اس کے کھانے وغیرہ کا خصوصی اہتمام کرے۔

لیکن شرط یہ ہے کہ ان جانوروں کےحقوق مثلاً خوراک وغیرہ کا خوب خیال رکھا جائے اور ان کی حق تلفی نہ کی جائے۔کیونکہ ان کو خوراک مہیا نہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے،حدیث نبوی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔:

" دخلت امرأة النار في هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض " (متفق عليه)

ایک عورت صرف اس لئے جہنم میں چلی گئی ،کہ اس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی،لیکن اسے نہ تو کھانا کھلایا اور نہ ہی اسے زمین میں کھلا چھوڑ دیا،کہ وہ حشرات الارض سے پیٹ بھر لے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)