فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2701
(362) کھڑے ہو کر آب زمزم پینا
شروع از بتاریخ : 05 March 2013 04:20 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم اس بارے میں وضاحت فرمادیں کے ہمارے ہاں عام طور پر یہ رواج ہے کہ جب کوئی صاحب حج یا عمرہ سے واپس آئے تو وہ زم زم لے کر آتے ہیں اور عزیز و اقارب میں تقسیم کرتے ہیں اس وقت اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ زم زم کو کھڑے ہو کر پیا جائے۔ اس کھڑے ہو کو پینے کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کھڑے ہو کر آب زمزم پینا مسنون اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ عمل ہے۔سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

"سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏من زمزم وهو قائم " (بخاری:1637)

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم پلایا ،اور آپ کھڑے تھے۔

البتہ اگر کوئی شخص بیٹھ کرپی لیتا ہے تو بھی جائز ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)