فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2700
(361) دعوت و تبلیغ کا حکم
شروع از بتاریخ : 05 March 2013 03:34 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا دعوت و تبلیغ کاکام کرنا ضروری ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں ! اسلام میں دعوت و تبلیغ فرضِ عین کا درجہ رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کے لئے لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا فرض قرار دیا ہے :

ارشاد باری تعالی ہے۔

" کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّة اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ" ( آل عمران، 3 : 110)

’’تم بہترین امت ہو جو سب لوگوں کی (رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی تبلیغ اور دعوتِ اسلام میں گزری۔ قرآنِ حکیم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبلیغ کے عملی مراحل اور اصول سکھاتے ہوئے فرمایا :

" اُدْعُ اِلٰی سَبِيْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَة وَالْمَوْعِظَة الْحَسَنَة وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ " (النحل، 16 : 125)

اے رسول معظم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)