فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 2697
(358) اگر مقتدیوں اور امام کے عقیدہ میں فرق ہو تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟
شروع از بتاریخ : 28 February 2013 12:19 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر مقتدیوں اور امام کے عقیدہ میں فرق ہو تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال میں عقیدہ کی وضاحت مرقوم نہیں اس لیے جواب مشکل ہے اگر عقیدہ میں اصولی اختلاف ہو یعنی کفر و اسلام کا فرق ہو تو نماز نہیں ہو گی اور اگر عقیدہ میں فروعی مسائل کا اختلاف ہو جیسے حنفی، شافعی، مالکی فرقوں میں فرق ہے تو نماز ہو جاتی ہے۔ (اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۸ شمارہ نمبر ۳۷)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 253
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)