فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 26648
(22) سادات کرام زکوۃ لے سکتے ہیں یا نہیں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 May 2018 01:00 PM
 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سادات کرام زکوۃ لے سکتے ہیں یا نہیں اگر اس طرح کی کوئی حدیث ہو تو بیان فرمائیں ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فی الواقع کوئی حدیث صحیح یا ضعیف ایسی نہیں آئی ہے جس سے اہل بیت کے لیے اخذزکوۃ کا جواز ثابت ہو سکتا ہو بلکہ احادیث سے صاف صاف یہی ثابت ہے کہ اہل بیت پر زکوۃ حرام ہے اور علامہ ابو طالب اور ابن قدامہ اور ابن رسلان نے اس حرمت پر اجماع کا دعوے کیا ہے یعنی یہ کہا ہے کہ تمام علماء کے نزدیک بالا تفاق اہل بیت پر زکوۃ حرام ہے سبل السلام میں ہے :

"ابو طالب اور ابن قدامہ اور ابن رسلان نے دعوی کیا ہے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی آل پر زکوۃ کے حرام ہونے پر امت کا اجماع ہے"

مگر ابو عصمۃ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  سے روایت کیا ہے کہ اس زمانہ میں بنی ہاشم کو زکوۃ دینا اور ان کو لینا جائز ہے اور اسی روایت کی بنا پر متاخرین حنفیہ نے یہ فتوی دیا ہے کہ بنی ہاشم کو زکوۃ لینا درست ہے لیکن ابو عصمت کی یہ روایت احادیث صحیحہ کے صریح خلاف ہے ایک نہیں بہت سی حدیثیں اس روایت کو رد کرتی ہیں اور عند الحنفیہ بھی اس روایت پر فتوی نہیں ہے کیونکہ یہ روایت ظاہر المذہب اور ظاہر الروایات کے خلاف ہے رسائل الارکان میں ہے۔

"سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ -رضي الله عنه- قَالَ: "أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ -رضي الله عنهما- تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: كِخٍ، كِخٍ، لِيَطْرَحَهَا. ثُمَّ قَالَ: أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لاَ نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ"؟ وبالسند قال: (حدّثنا آدم) بن أبي إياس قال: (حدّثنا شعبة) بن الحجاج قال: (حدّثنا محمد بن زياد) الجمحي مولاهم (قال: سمعت أبا هريرة -رضي الله عنه-، قال: أخذ الحسن بن علي -رضي الله عنهما- تمرة من تمر الصدقةفجعلها في فيه) زاد أبو مسلم الكجي فلم يفطن له النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حتى قام ولعابه يسيل فضرب النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- شدقه (فقال النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-): (كخ، كخ، ليطرحها). بفتح الكاف وكسرها وبسكون الخاء مثقلاً ومخففًا وبكسرها منوّنة وغير منونة فهي ست لغات، ورواية أبي ذر: كخ كخ بكسر الكاف وسكون الخاء مخففة"[1]

اور بحرالرایق میں ہے:

"وفي البحر الرائق شرح كنز الحقائق وهو حنفي: وأطلق الحكم في بني هاشم ولم يقيده بزمان ولا بشخص للإشارة إلى رد رواية أبي عصمة عن الإمام أنه يجوز الدفع إلى بني هاشم في زمانه لأن عوضها وهو خمس الخمس لم يصل إليهم لإهمال الناس أمر الغنائم وإيصالها إلى مستحقها، وإذا لم يصل إليهم العوض عادوا إلى المعوض، وللإشارة إلى رد الرواية بأن الهاشمي يجوز له أن يدفع زكاته إلى هاشمي مثله، لأن ظاهر الرواية المنع مطلقا. انتهى".[2]

الحاصل بنی ہاشم کو زکوۃ لینا جائز نہیں ہے کسی حدیث سے اس کا جواز ثابت نہیں یہی مذہب ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  اور امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ  اور تمام آئمہ دین کا اور عند الحنفیہ بھی یہی مفتی بہ اور ظاہر المذہب و ظاہر الروایت ہے ہاں زکوۃ کے سوا نفلی صدقات کی نسبت علماء کا اختلاف ہے بعض اہل علم کے نزدیک نفلی صدقات بھی بنی ہاشم پر حرام ہیں اور اکثر حنفیہ کے نزدیک جائز ہے اور حنابلہ اور شافعیہ کے نزدیک بھی علی القول الصحیح جائز ہے سبل السلام میں ہے۔

"وقد ذهب طائفة إلى تحريم صدقة النفل أيضا على الآل واخترناه في (حواشي ضوء النهار) لعموم الأدلة)"[3]

اور فتح الباری میں ہے:

"وثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم " الصدقة أوساخ الناس " كما رواه مسلم ,  ويؤخذ من هذا جواز التطوع دون الفرض "[4]

واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم کتبہ محمد عبد الرحمٰن المبارکفوری عفا اللہ عنہ۔


[1] ۔بنی ہاشم کوزکوۃ جائز نہیں ہے اس کی ایک دلیل پہلے گزر چکی ہے اور یہ بھی ہے کہ امام حسن علی زکوۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لیکر منہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پھینک دے کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہمارے لیے زکوۃ اور صدقہ حلال نہیں ہے اور اس مضمون کی اتنی حدیثیں ہیں کیا ان کو متواتر کہا جا سکتا ہے  فتح القدیر میں ہے کہ ابو عصمہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  سے روایت کیا ہے کہ اس زمانہ میں بنی ہاشم کو زکوۃ دینا جائز ہے اگرچہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ممنوع تھا کیونکہ ان کوکوئی عطیہ نہیں ملتا اور ان کو حاجت تو آج بھی موجود ہے اور بعض متاخرین نے اسی پر فتوی دیاہے اور یہ سب غلط اور خطا ہے کیونکہ نصوص کے برخلاف ہے۔

[2]۔بنی ہاشم کے متعلق حکم عام ہے کسی زمانہ اور شخص کی تخصیص نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ ابو عصمۃ سے روایت مراد ہے کہ بنی ہاشم اس زمانہ میں زکوۃ دینا جائز ہے یا یہ قول کہ ہاشمی ہاشمی  سے زکوۃ لے سکتا ہے کیونکہ ہر روایت میں مخالفت ہے۔

[3]۔اہل بیت پرنفلی صدقہ کی حرمت کی بھی ایک جماعت قائل ہے اور میں یہی پسند ہے کیونکہ دلائل میں عموم ہے۔

[4]۔آل نبی پر نفلی صدقہ کے جواز کی ایک جماعت احناف شوافع اور حنابلہ میں سے خاص ہے اور فرض میں نہیں وہ کہتے ہیں کہ حرام جو ہے وہ لوگوں کی میل کچیل ہے اور وہ فرضی زکوۃ ہے نہ کہ نفلی صدقہ (؟)میں کہا ہے کہ نفلی صدقہ کو ہبہ ہدیہ اور وقف پر قیاس کیا گیا ہے امام ابو یوسف اور ابو العباس نے کیا نفل صدقہ بھی ان پر فرضی زکوۃ کی طرح حرام ہے کیونکہ دلیل میں نفلی اور فرضی کا امتیاز نہیں کیا گیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے کہ صدقہ لوگوں کی میل کچیل ہے اس (سے معلوم ہوتا ہے نفلی صدقہ لینا ان کو جائز ہے فرضی نہیں۔

     ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی نذیریہ

جلد:2،کتاب الزکوٰۃ والصدقات:صفحہ:72

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)