فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2663
(324) کتا کنویں میں گر پڑے تو اس کا کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 25 February 2013 09:32 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کتا کنویں میں گر پڑے، تو اس کا کیا حکم ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کتا کنویں میں گر پڑے اور پانی کا رنگ یا مزہ یا بو تبدیل نہ ہو تو وہ پانی پاک ہے، ورنہ ناپاک، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز پلید نہیں کر سکتی، اور پھر یہ بھی فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کر سکتی ہاں اگر کوئی چیز ناپاک اس کے رنگ یا مزہ یا بو پر غالب آ کر اس کو بدل دے تو ناپاک ہو جاتا ہے اس حدیث کو ابو حاتم نے ضعیف کہا ہے لیکن دوسرے طرق سے اس کی تائید ہو جاتی ہے اور دوسری حدیث کے آخری حِصّہ پر امت کا اجماع ہے، یعنی اگر ناپاک چیز پانی میں گِر کر اس کے رنگ یا مزہ یا بو کو بدل دے، تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کے پچھلے حصہ پر اجماع ہی اس کے پہلے حصے کی بھی توثیق کر دیتا ہے، چنانچہ سبل السلام شرح بلوغ المرام میں اس کو تفصیلاً ذکر کیا ہے۔
’’ہاں اگر پانی دو قلہ (قریبا ۵ مٹکے) سے کم ہو، تو وہ نجاست کے گرنے سے ناپاک ہو جائے گا، خواہ اس کا رنگ یا بو یا مزہ بدلے یا نہ بدلے۔ چنانچہ بلوغ المرام میں حدیث ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب پانی دو قلہ ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا، یہ تحقیق تو ازروئے حدیث ہے۔ فقہ حنفی کی رو سے اس کنویں کا تمام پانی نکالا جائے گا۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے اگر کنویں میں بکری یا آدمی کا کتا گر کر مر جائے تو اس کا تمام پانی نکالا جائے گا، کیونکہ ابن عباس اور ابن زبیر نے یہی فتویٰ دیا تھا، جب کہ زمزم کے کنویں میں ایک حبشی گر کر مر گیا، لیکن یہ حکم کئی لحاظ سے قابل تسلیم نہیں ہے۔ اوّلاً اس لیے کہ اس کی نبیاد ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے فتویٰ پر ہے اور وہ فتویٰ کئی لحاظ سے مخدوش ہے اوّلاً اس لیے کہ اس کی سند ضیعف ہے، چنانچہ درایہ تخریج ہدایہ میں لکھا ہے، کہ حبشی والی حدیث کی سند منقطع ہے، کیونکہ ابن سیرین کی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔ اور اس کے چند ایک طرق بھی ہیں جو کہ سب کے سب ضعیف ہیں۔ ثانیاً اگر اس کی صحت تسلیم کر بھی لی جائے تو اس سے حجت نہیں لی جا سکتی، کیونکہ صحابی کا قول ہے اور وہ احناف کے نزدیک بھی حجت نہیں ہے، چنانچہ محمد طاہر پٹنی حنفی نے مجمع البحار میں اس کی تصریح کی ہے۔ ثالثاً، اگر صحابی کے قول کو حجت تسلیم کر بھی لیا جائے، تو حدیث صحیح مرفوع کا معارض نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ میں خود علمائے احناف نے اس کو تسلیم کیا ہے۔‘‘
حاصل کلام یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ وجوہ مذکورہ بالا کی بنا پر قابل قبول نہیں ہے اور اسی بنا پر ہدایہ کا بھی فیصلہ قبول نہیں، بڑے تعجب کی بات ہے کہ احناف اس کنویں کے پانی کو ناپاک کہتے ہیں اور اس پانی کو جو اس سے سینکڑوں حصے کم ہے اور گندگی اس سے زیادہ ہے اس کو پاک کہہ لیتے ہیں۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے اگر بارش کے وقت مکان کے پرنالے میں گندگی (پاخانہ وغیرہ) پڑی ہو اور بارش کا پانی اس کے ساتھ لگ کر بہہ رہا ہو تو اگر آدھے سے زیادہ یا آدھا پانی لگ کر گزرے، تو ناپاک ہے اور اگر آدھے سے کم لگ کر گزرے اور اگر مکان کی چھت پر متفرق طور رپ گندگی پڑی ہو اور بارش کا پانی اس پر برس کر پرنالے سے گرے، تو وہ پانی پاک ہے۔ (سبحان اللہ کیا تحقیق ہے) اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ پانی جاری ہے۔ واللہ اعلم
حافظ ابن حجر نے درایہ ص ۳۰ میں لکھا ہے، کہ بیہقی نے ابن عیینہ سے نقل کیا ہے، کہ میں مکہ میں ستر (۷۰) سال رہا، میں نے کسی چھوٹے یا بڑے سے حبشی والی حدیث نہیں سنی اور نہ ہی زمزم کے پانی نکالنے کا قصہ سُنا، امام شافعی کہتے ہیں، کہ اگر بالفرض یہ واقعہ صحیح ہو ، تو ہو سکتا ہے کہ آب زمزم پر نجاست ظاہر ہو گئی ہو یا پانی صفائی کے لیے نکالا ہو۔ واللہ اعلم

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارۃجلد 1 ص11۔14
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)