فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 26613
(965) فتویٰ کو مزید آسان بنائیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 April 2018 04:34 PM
 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم و مکرمی جناب شیخ الحدیث مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کے جارہ کردہ فتویٰ جات ہفت روزہ الاعتصام میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں جو کہ بڑے معلوماتی ہوتے ہیں۔ جزاک اللہ ۔ مگر فتویٰ میں قرآن و حدیث کے جو حوالہ جات آپ تحریر کرتے ہیں۔ ان کا اردو ترجمہ شامل نہیں ہوتا۔ جس سے پڑھنے والوں کو فتویٰ مکمل طور پر سمجھ نہیں آتا۔ حوالہ ہفت روزہ الاعتصام مورخہ ۹۵/۱۲/۱۵(صفحہ:۸۔۹) آپ نے صفحہ نمبر ۸ پر سوال نمبر ۳ کے جواب میں سبحانک اللہ پڑھنے میں تشریح نہیں فرمائی جس کی وضاحت بہت ضرورت ہے۔د وسری مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ مہربانی فرما کر آسان اردو میں جواب تحریر فرمایا کریں تاکہ ہر پڑھنے والا سمجھ سکے۔ شکریہ۔ آپ کا مخلص ( محمد یعقوب گڑھی شاہو۔لاہور) (۱۵ مارچ ۱۹۹۶ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

محترم جناب محمد یعقوب صاحب! گزارش ہے مقدور بھر میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر فتویٰ آسان انداز میں تحریر ہو۔ بعض عربی عبارتوں کا ترجمہ اس لیے ترک کردیا جاتا ہے کہ ان کا مفہوم اردو عبارت میں واضح کیا جا چکا ہوتا ہے۔ یا پھر اس عبارت کی اصل ضرورت صرف عربی دانوں تک محدود ہوتی ہے۔ دوسری طرف الاعتصام کی تنگ دامنی پیش نظر ہوتی ہے۔ اس کے باوجود تعمیل کی سعی ہوگی۔

آپ نے جس سوال کے جواب کی عدم ِ وضاحت کی نشاندہی فرمائی ہے وہ شاید کسی سہو کا نتیجہ ہے۔ آپ کی یاد دہانی کا شکریہ۔

نماز میں ’’سورۃ فاتحہ‘‘ کی قراء ت چونکہ ضروری ہے اور سبحانک اللہ پڑھنا مسنون ہے۔ لہٰذا صرف فاتحہ کی قراء ت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ہاں البتہ مقتدی اگر یہ سمجھتا ہے کہ ثناء کے بعد امام کے رکوع میں جانے سے پہلے فاتحہ کو پا سکتاہے تو ثناء بھی پڑھ سکتا ہے اور ’’سورۂ فاتحہ‘‘ کے علاوہ دوسری سورت بھی ملا سکتا ہے۔

     ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،ثناء اللہ مدنی سے چند سوالات:صفحہ:661

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)