فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2640
(301) امام زانی ہو یا شرابی تو اس کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 23 February 2013 05:16 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو امام مسجد زنا کے جرم میں پکڑا گیا ہو۔ یا خود اس نے اپنے لیے اس جرم کے ارتکاب کا اقرار کیا ہو۔ یا وہ شراب نوشی قمار بازی یا بھنگ چرس وغیرہ کے استعمال کا عادی ہو یا سودی کاروبار کرتا ہو۔ یا تعویذوں اور گنڈوں کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی ڈلوا کر اور جدائی کرا کر عورتوں کو اپنے نکاح میں یا کسی دوسرے کے نکاح میں لانے کا پیشہ ور مجرم ہو۔ یا کبھی کبھار اس سے یہ جرم سرزد ہوا ہو۔ یا جھوٹی شہادتیں عدالت میں پولیس یا نمبر داروں یا ذیل داروں کے کہنے سے یا کسی فریق کی حمایت میں دیتا ہو۔ یا کوئی اور فسق و فجور کی عادت اس میں ہو۔ اس کی امامت کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ شخص امامت مسجد کے ہر گز قابل نہیں۔ ایسے شخص کو امامت سے معزول کر کے کسی صالح اور متدین امام کو مقرر کرنا چاہیے اور ایسی حالت میں کہ اس کا وجود جماعت میں افتراق اور جھگڑے کا باعث ہو تو اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کو معزول کر کے کسی اور شخص کو امام مقرر کیا جائے جس کو تمام نمازی یا نمازیوں کی اکثریت پسند کرتی ہو۔
اس بارہ میں جو احادیث مروی ہیں ان میں سب سے پہلے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام ہمیشہ وہی شخص مقرر کیا جائے جو سب جماعت میں نیک اور عالم ہو۔ مثلاً مسند مستدرک حاکم میں مرثد غنوی سے یہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فانھم وفد کم فیما بینکم وبین ربکم»
’’مسلمانو! تم اگر چاہتے ہو کہ تمہاری نمازیںقبول ہوں تو تم سے بہتر لوگ تمہاری امامت کریں اس لیے کہ امام تمہارے اور تمہارے رب (عزوجل) کے درمیان ایلچی ہیں۔‘‘
اور یہ تو صحیحین کی روایت سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللّٰہ فان کانوا فی القراءة سواء ناعلمھم بالسنة فان کانوا فی السنة سواء فاقد مھم ھجرة فان کانوا فی الھجرة سواء فاقدمھم سنا»
’’جو شخص تمام قوم میں سے زیادہ قرآن مجید کا عالم ہو وہی امامت کرائے۔ اگر قرآن کریم کے علم میں سب برابر ہیں تو پھر جو اُن میں سے حدیث زیادہ جانتا ہو۔ اگر حدیث کے علم میں سب برابر ہوں تو پھر جس نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہے۔ اور اگر ہجرت میں سب برابر ہیں تو پھر عمر میں جو سب سے بڑا ہے۔‘‘
غرض علم اور عمل میں جو سب سے بڑا ہے وہی امامت قوم کا حق رکھتا ہے۔
سنن ابی داؤد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک امام مسجد نے قبلہ کی طرف تھوک پھینکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسا کرتے دیکھ لیا۔ آپ نے نمازیوں کو حکم دیا کہ اس امام کو معزول کر دیا جائے۔ چنانچہ جس وقت وہ شخص نماز پڑھانے کے لیے آیا۔ نمازیوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مطلع کیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:
«نعم انك اذیت اللّٰہ ورسوله»
’’ہاں! اس لیے کہ تو نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دُکھ دیا ہے۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف قبلہ کی طرف تھوکنے سے ایک شخص کو امامت سے معزول کر دیا تو جو شخص فسق و فجور کے کاموں میں سے کسی ایک میں مبتلا پایا جائے۔ وہ کیونکر مستحق ہو سکتا ہے؟
امام ابن تیمیہ سے ایک امام مسجد کے متعلق جو بھنگ پیتا تھا سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
لا یجوز ان یولی فی الامام بالناس من یاکل الحشیشة او یفعل من المنکرات المحرمة مع المکان تولیة من ھو خیر منہ وفی الحدیث من قلد ر ملا عملا علٰی عصابة وھو یجد فی تلك العصابة من ھو ارضی اللّٰہ فقد خان اللّٰہ وخان رسولہ وخان المومنین۔ وفی حدیث اٰخر إذا ام الرجل القوم  و فیھم من ھو خیر منہ لم یذالوا فی اسفال (فتاویٰ ابن تیمیہ جلد نمبر ۱ ص ۱۰۸)
’’جو شخص بھنگ کا استعمال کرتا ہے یا وہ محرمات کا ارتکاب کرتا ہے اسے ہر گز امام نہ بنایا جائے حدیث میں ہے جس شخص نے کسی جماعت کے ایسے کام کے لیے متعین کیا کہ وہ اس جماعت میں اس سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ آدمی مل سکتا ہے تو اس مقرر کرنے والے نے اللہ سے خیانت کی، اور اللہ کے رسول کی خیانت کی، اور مسلمانوں کی خیانت کی، اور دوسر ی حدیث میں ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ تنزل اور تسفل و ادبار میں رہیں گے کہ جو اچھے آدمی کے ہوتے ہوئے کسی ادنیٰ کا امام بنائیں گے۔‘‘
اس کے بعد امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے دو حدیثیں ذکر کی ہیں جن کو ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ اس کے بعد امام موصوف فرماتے ہیں کہ فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق عام طور پر جو یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ
«صلوا خلف کل برو فاجر»
’’کہ ہر نیک اور فاسق و فاجر کے پیچھے نماز پڑھ لو۔‘‘
فرماتے ہیں۔
ان ھذا الحدیث لم یثبت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بل فی سنن ابن ماجہ لا یومن فاجر مومنا الا ان یقھرہ بسوط او عصا
’’کہ یہ حدیث تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف سنن ابن ماجہ میں یہ حدیث مروی ہے کہ فاجر مومن کا امام نہ بنے۔ سوائے اس کے کہ حاکم کا ڈر ہو یا لاٹھی اس کو مجبور کر دے۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ جلد نمبر۱ ص ۱۰۸)
پھر اس کے بعد امام موصوف فرماتے ہیں کہ ائمہ کا اتفاق ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ اگر اختلاف ہے تو صرف صحت میں، امام مالک اور امام احمد سے ایک روایت کے مطابق تو سرے سے نماز ہوتی ہی نہیں۔ امام حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک ہو جاتی ہے لیکن مکروہ ہوتی ہے۔ اسی طرح قاضی شوکانی نیل الاوطار میں فرماتے ہیں:
واعلم محل النزاع انما ھو فی صحت الجماعة بعد من لا عدالتہ له واما انھا مکروھة فلا خلاف فی ذٰلك
’’اختلاف صرف فاسق کے پیچھے نماز صحیح ہونے کے متعلق ہے، باقی رہا یہ امر کہ غیر عادل کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ ہے۔ اس میں تو اختلاف ہی نہیں۔‘‘
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس فتویٰ کے آخر میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ فاسق امام کے ہٹائے جانے کی مخالفت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ ازان بعد سنن ابی داؤد کی حدیث ذکر کرتے ہیں:
من حالت شفاعة فی حد من حدود اللّٰہ فقد رضا اللّٰہ فی امرہ من خاصم فی باطل وھو اعلم لم یذل فی سخط اللّٰہ حتی ینتزع
’’جس شخص کی شفاعت اللہ کی حدود میں حائل ہوئی اس نے اللہ کے حکم سے دشمنی کی۔ اور جس نے کسی باطل معاملہ میں جھگڑا کیا یہ جانتے ہوئے کہ یہ باطل ہے وہ ہمیشہ اللہ کے غصے اور اس کے عتاب میں رہے گا تاآنکہ وہ اس سے نکل آئے۔‘‘
پس مذکورہ احادیث اور علمائے اسلام کی تصریحات کے مطابق جو شخص مسجد میں زنا کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔ اور خود اس نے اس کا اقرار بھری مجلس میں کر لیا ہو۔ وہ کیونکر مسلمانوں کا امام اور پیشوا ہو سکتا ہے۔ بلکہ اس کو دوسرے گائوں سے بلا کر امام بنانے والے ایسی حالت میں جبکہ اس سے زیادہ نیک اور صالح امام اس گائوں میں موجود ہیں یا تلاش کرنے سے مل سکتے ہیں۔ حدیث نبوی کے مطابق اللہ کی خیانت، اللہ کے رسول کی خیانت اور مسلمانوں کی خیانت کرنے والے ہیں۔ اور دوسری حدیث کے مطابق یہ مسلمانوں کو تسفل اور تنزل کے گڑھے میں گرانے والے ہیں۔
باقی رہا یہ معاملہ کہ وہ اب توبہ کر رہا ہے۔ تو معلوم رہنا چاہیے کہ زنا کی توبہ حد شرعی ہے۔ جو کنوارے کے لیے سو درے اور ایک سال کی جلا وطنی اور رنڈوے کے لیے سنگساری ہے۔ اس ملک میں چونکہ شرعی حد قائم نہیں ہوتی۔ اس لیے کم سے کم جو سزا اس امام کو دی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے بعد ایک سال کے لیے اس کا گائوں سے نکال دیا جائے۔ اس عرصہ میں اگر اس کا چال چلن اچھا رہا۔ اور کسی قسم کا شک و شبہ اس پر نہ ہوا اور توبہ و زاری کرتا رہا اور اس کی گفتگو، نشست و برخاست اور عام چال چلن میں خوف و خشیت الٰہی ظاہر ہوتی رہی۔اور برے لوگوں کی مجلس سے اور غیر محرم عورتوں سے ملنے جلنے سے اور ان سے خلا ملا کرنے سے باز رہا۔ تو اس قابل ہو سکتا ہے کہ اس کو امام بنا لیا جائے۔
لیکن یہ حکم ہر حالت میں مقدم ہے کہ جماعت میں جو سب سے زیادہ نیک اور عالم ہے وہی شخص امام ہو سکتا ہے۔ (الاعتصام جلد نمبر ۱۱، شمارہ نمبر۲۶)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص228۔231
محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)