فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 26178
(530) کیا خرقاء اور جدعاء میں خصی ہونا نہیں آتا ؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 April 2018 01:03 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا خرقاء اور جدعاء میں خصی ہونا نہیں آتا ؟(سائل) (۷ فروری ۲۰۰۳ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان میں گول سوراخ ہو۔ جدعاء وہ جانور جس کے ناک ، کان، ہونٹ کٹے ہوں۔ اس لفظ کا زیادہ تعلق ناک سے ہے ، جب مطلق آئے، غالباً مراد ناک کا کٹنا ہوتا ہے اور جانور کا خصی ہونا اس میں داخل نہیں۔ مرعاۃ المفاتیح:۲/۳۵۹

    ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الصوم:صفحہ:413

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)