فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 26173
(525) خصی جانور ذبح کرنا نیز کیا جانور خصی کرنا جائز ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 April 2018 12:56 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا خصی جانور کو ذبح کرنا جائز ہے ؟ مزید بتائیں کہ جانور کو خصی کرناجائز ہے یا کہ نہیں؟ (محمد زبیر بھٹی جھبراں) (۱۳ مارچ، ۱۹۹۲ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خصی جانور ذبح کرنا درست ہے۔ رسول اللہﷺ نے دو خصی کردہ دنبوں کی قربانی کی۔" مسند احمد برقم:۲۵۸۸۶، سنن ابن ماجہ،بَابُ أَضَاحِیِّ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،رقم: ۳۱۲۲۔" اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ  کی روایت کے الفاظ یوں ہیں:

’ ذَبَحَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ یَوْمَ الذَّبْحِ کَبَشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مَوْجُوْئَیْنِ‘مسند احمد برقم:۲۵۸۸۶، سنن ابن ماجه،بَابُ أَضَاحِیِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،رقم: ۳۱۲۲۔

’’یعنی آنحضرتﷺ نے عید قربان کے دن دو دنبے ذبح کیے، جو سینگ دار ابلق اور خصّی تھے۔‘‘

ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ کا خصی جانوروں کو ذبح کرنا خصی کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔

علامہ عظیم آبادی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں، جانوروں کی خصی اگر ناجائز ہوتی تو رسول اللہﷺ اس پر سکوت نہ فرماتے۔ بلکہ مرتبہ ٔ رسالت کے پیش نظر ممنوع چیز کے ارتکاب پر ناراضگی کا اظہار کرتے اور عادت شریفہ کے مطابق فرماتے کہ لوگوںکو کیا ہو گیا ہے کہ اس طرح کے کام کرتے ہیں؟ اس فعل پرحضورﷺ کی خاموشی اس کے جواز کی دلیل ہے۔ یہ مسئلہ اصولِ حدیث کی کتابوں میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ (فتاویٰ، ص:۳۲۳) کچھ لوگوں کا نظریہ اس کے برخلاف بھی پایا جاتا ہے لیکن راجح مذہب وہی ہے جس کی وضاحت ہوچکی۔

جانبین کے دلائل پر احاطہ کے لیے ملاحظہ ہو ،رسالہ ’’القول المحقق‘‘ مؤلفہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی اور فتاویٰ،ص:۳۱۶ تا ۳۲۵ یہ رسالہ بازبان فارسی اعلام اھل العصر(مطبوعہ دہلی:۱۳۰۵ھ ) کے ساتھ چھپاتھا۔

    ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الصوم:صفحہ:410

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)