فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 26172
(524) خصی بکرے کی قربانی کا جواز
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 April 2018 12:55 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خصی بکرے کی قربانی جائز ہے کہ نہیں؟ کیوں کہ بعض حضرات کے نزدیک خصی پن ایک نقص ہے۔(آپ کا بھائی سید طاہر عباس شاہ جوہر آباد خوشاب) (۳۱ جولائی ۱۹۹۸ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خصی شدہ جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔ ’’مسنداحمد‘‘، ’’سنن ابی داؤد‘‘ اور ابن ماجہ وغیرہ کی روایات میں تصریح موجود ہے کہ نبی ﷺنے عید قربان کے دن دو دنبے ذبح کیے جو سینگ دار ابلق اور خصی تھے۔‘‘ مسند احمد برقم:۲۵۸۸۶، سنن ابن ماجه،بَابُ أَضَاحِیِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،رقم: ۳۱۲۲۔

جانورکا گوشت اچھا بنانے کے لیے خصی کرنا عیب یا نقص نہیں ہاں البتہ بلاوجہ خصی کرنا واقعی معیوب کام ہے۔

    ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الصوم:صفحہ:410

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)