فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2589
(255) وضو میں اعضاء کو دو یا تین بار دھونا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:32 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید وضو کرتا ہے کوئی اعضاء ایک بار اور کوئی تین بار اور کوئی دو بار دھوتا ہے اور نہ داڑھی کا خلال کرتا ہے اور نہ ہی پیروں کی انگلیوں کا خلال کرتا ہے اور پوچھنے پر کہتا ہے کہ اس طرح بھی وضوء کرنا جائز ہے۔ کیا اس  طرح اس کا وضوء ہو جائے گا؟

_________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وضوء میں کوئی عضو ایک بار کوئی دو بار اور کوئی تین بار دھونے سے وضوء ہو جائے گا۔ انسان گناہ گار بھی نہیں ہو گا کیونکہ فرض ایک ایک بار دھونا ہے ۔ دو دو بار یا تین تین بار دھونا فرض نہیں ،صرف فضیلت یا زیادہ فضیلت سے محرومی اور ترکِ سنت والی بات ہے ۔ البتہ وضوء میں داڑھی کا خلال نہ کرنا نیز ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال نہ کرنا جرم و گناہ ہے کیونکہ داڑھی کا خلال اور ہاتھ پاؤں کی اُنگلیوں کا خلال فرائض وضوء میں شامل ہیں۔
عبداللہ بن زید فرماتے ہیں : بلا شبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا تو چہرے کو تین بار او ر ہاتھوں کو دو دو بار دھویا اور سر کا مسح کیا۔  (مسلم،کتاب الطہارة، باب آخر فی صفة الوضوء، ترمذی،ابواب الطہارة،  باب فیمن یتوضأ بعض وضوءه مرتین و بعضہ ثلاثاً، صحیح ابی داؤد:۱۰۹)
امام ترمذی فرماتے ہیں: اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ نبی اکرم a نے وضوء کرتے وقت بعض اعضاء کو ایک ایک بار اور بعض کو تین تین بار دھویا۔ ( ترمذی،الطہارة، باب ما جاء فی تخلیل اللحیة، ترمذی الطہارة، باب فی تخلیل الاصابع ،  ابن ماجہ ،الطہارة، باب تخلیل الاصابع)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)