فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2587
(205) وضو میں کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:29 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 وضو میں کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا چاہیے یا کہ مسح راس والا پانی کافی ہے؟

___________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسح رأس والا پانی کانوں کے مسح کے لیے کافی ہے کانوں کے لیے نیا پانی لینے والی کوئی ایک بھی روایت صحیح نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کانوں کا تعلق سر سے ہے ۔(دار قطنی:۱؍۹۸) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کانوں کے مسح کے لیے نئے پانی کی ضرورت نہیں ہے۔  اس حدیث کو شیخ البانی  ؒ نے صحیح کہا ہے ۔ (سلسلہ صحیحہ:۳۶۰) کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینے والی روایت کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے شاذ کہا ہے۔ (بلوغ المرام، باب الوضوء)                            

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)