فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2571
(243) ننگے سر جماعت کروائی جا سکتی ہے
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:14 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ننگے سر آدمی جماعت کروا سکتا ہے یا نہیں؟ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ امام کے پاس کپڑا یا ٹوپی نہیں تو وہ کسی مقتدی سے ٹوپی یا کپڑا لے کر جماعت کراتا ہے؟

________________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کرا سکتا ہے۔ ویسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر پگڑی باندھا کرتے تھے ، اس لیے مرد کو سر پر پگڑی خمار وغیرہ رکھنا چاہیے۔  نماز میں بھی اور نماز کے علاوہ بھی ۔ عورت اگر ننگے سر نماز پڑھے تو ہوتی ہی نہیں ۔ رسول اللہ a کا فرمان ہے:
«لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلوة حَائِضٍ اِلاَّ بِخِمَارٍ »

’’اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز ننگے سر قبول نہیں فرماتا۔‘‘ (ابو داؤد،المجلد الاوّل ،باب المرأة تصلی بغیر خمار)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)