فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2569
نماز پڑھتے ہوئے جوتا آگے رکھنا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:12 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز پڑھتے ہوئے جوتا آگے رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ کیا جوتا آگے ہو تو نماز نہیں ہوتی ؟ میں نے حدیث میں پڑھا ہے کہ نبیa نے نماز میں جوتی اُتاری اور پیچھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی جوتیاں اُتار دیں۔ (ابوداؤد، کتاب الصلاة، باب المصلى إذا خلع نعليه أين يضعهما)

_____________________________________________________

ابو داؤد میں حدیث ہے:
عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَة أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِذَا صَلّٰی أحَدُکُمْ فَلَا یَضَعْ نَعْلَیْہِ عَنْ یَمِیْنِہٖ، وَلَا عَنْ یَسَارِہٖ ، فَتَکُوْنَ عَنْ یَمِیْنِ غَیْرِہٖ إلاَّ أَنْ لَا یَکُوْنَ عَنْ یَسَارِہِ أَحَدٌ ، وَلْیَضَعْھُمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ (۱؍۲۴۸)
[’’رسول اللہ a نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے دائیں طرف نہ رکھے اور نہ اپنے بائیں طرف رکھے ، کیونکہ اس صورت میں وہ کسی دوسرے کے دائیں طرف ہوں گے ۔ ہاں اگر اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو تو رکھ لے اور نمازی اپنے جوتے اپنے پاؤں کے درمیان رکھے۔‘‘ (ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب المصلى إذا خلع نعليه أين يضعها)
رہی یہ بات کہ ’’جوتا آگے ہو تو نماز نہیں ہوتی‘‘تو اس کے بارے میں کوئی آیت یا حدیث مجھے معلوم نہیں۔

فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 160

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)