فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2568
(240) ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے سے نماز قبول نہیں ہوتی
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:11 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسبل الازار کی نماز کے متعلق بھی بیان کریں کہ اس کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگر ہو جاتی ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ جب کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا کے متعلق حکم ہے کہ «فَفِی النَّارِ» کیا ناری کپڑا میں نماز ہو جاتی ہے ۔ علماء حجاز کہتے ہیں کہ نماز ہو جاتی ہے لیکن کوئی صریح دلیل نہیں پیش کی۔ یہ فتویٰ الشیخ عبدالعزیز بن باز کا ہے۔ باقی آدمی گناہ گار ہے اور جو حدیث نماز کے مانع ہے جس میں رسول اللہ aنے اس کو کہا کہ جا کر وضو کر جس نے تین بار وضو کیا ، تو اس حدیث کو امام منذری نے ضعیف کہا ہے۔ اور علامہ مبارکپوری نے اس کو حسن کہا ہے اور امام نووی نے اس کو علی شرط المسلم کہا ہے۔اور شیخ البانی نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے ۔ وضاحت سے آگاہ کریں؟

__________________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث حسن ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایک مرتبہ ایک آدمی تہبند لٹکائے نماز پڑھتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جا  اور وضوء کر وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ’’ جا اور وضو کر‘‘ وہ پھر گیا اور وضوء کر کے آیا ، اس پر ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اسے کس سبب سے وضوء کا حکم دیا ہے۔ فرمایا کہ’’ یہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ جس کا ذکر بلند ہے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز کو قبول نہیں کرتا۔ ‘‘ (ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب الاسبال في الصلاة مرعاة المفاتيح، ص: 477، ج:2- ذكره الهيثمي في مجمع الزوائد: ج: 5، ص: 145، وقال رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)