فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2567
زکاۃ سے مسجد کا قرض اتارنا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:10 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسجد پر دو سال پرانا قرض ہے جو کہ نہ تو اُتارا جا سکا ہے اور نہ ہی آیندہ اُتارنے کی کوئی بظاہر سبیل نظر آتی ہے ۔ کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے یہ قرض ادا کیا جا سکتا ہے ؟ 

___________________________________________________________
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَ‌اءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّ‌قَابِ وَالْغَارِ‌مِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِ‌يضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
صدقہ و زکاۃ کے مصرف ہیں آٹھ: سورۂ توبہ کی آیت نمبر ساٹھ (۶۰)ان آٹھ مصارف میں مسجد نہیں آئی اس لیے صدقہ و زکاۃ مسجد پر صرف نہیں ہو سکتے۔ واللہ اعلم                   

فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 161

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)