فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2565
جس مسجد کی قبلہ والی دیوار کی طرف قبریں ہوں اس میں نماز پڑھنا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:08 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا اس مسجد میں نماز پڑھنا اور امامت کرانا جائز ہے جس کی جدار قبلہ کے آگے قبرستان ہے ؟ مسجد کی جنوب مشرق میں ایک دربار ملحق مسجد ہے جس میں غیر اللہ کی پوجا کی جاتی ہے۔ اکثر حاضرین مسجد کا عقیدہ شرکیہ ہے نیز مسجد کی جدار قبلہ میں دو کھڑکیاں ہیں جن کو بوقت ضرورت کھولا جاتا ہے تو سامنے قبریں نظر آتی ہیں۔

_____________________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس مسجد کی بنیاد و بناء اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس کی رضا و خوشنودی پر نہیں تھی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِ‌جَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُ‌وا ۚ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِ‌ينَ (التوبۃ:۹؍۱۰۸)
’’آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں البتہ جس مسجد کی بنیاد اوّل دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ اس لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔‘‘
تو سوال میں مذکور مسجد کی بنیاد و عمارت اگر اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر ہے تو اس میں نماز درست ہے ورنہ اس میں نماز درست نہیں ۔ واللہ اعلم

 

فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 161۔162

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)