فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2564
(236) مرد کی فرض نماز گھر میں نہیں ہوتی
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:07 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر مسجد میں جماعت ہو گئی ہو یا پھر آدمی کو کوئی مجبوری ہو تو وہ گھر میں نماز پڑھ سکتا ہے یا مسجد میں پڑھنا ضروری ہے ، گھر یا مسجد میں نماز پڑھنے میں نیکی میں کوئی اضافہ ہوتا ہے یا کمی ؟ آپ تفصیل سے بتائیں۔   

________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مرض ، خوف اور بارش ایسے عذروں کی بناء پر نماز گھر میں پڑھ سکتے ہیں ورنہ فرض نماز کے لیے مسجد میں جانا ضروری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، البتہ میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں ، پھر اذان کہلواؤں اور کسی شخص کو امامت کے لیے کہوں پھر ان لوگوں کے گھر جلا دوں جو نماز (جماعت) میں حاضر نہیں ہوتے ۔ (بخاری،الأذان،باب وجوب صلاة الجماعة،  مسلم،المساجد،باب فضل صلاة الجماعة)
جو شخص اذان سُن کر مسجد میں جماعت کے لیے بغیر کسی عذر کے نہ پہنچے(اور گھر میں نماز پڑھ لے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نماز قبول نہیں کی جاتی۔‘‘  (ابن ماجہ،المساجد،باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعة، إرواء الغلیل للالبانی:۲؍۳۳۷)                         

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)