فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2562
(234) حالات خراب ہونے کے اندیشہ سے الگ مسجد بنانا
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 04:05 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے علاقہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کی د و مساجد ہیں ، مساجد کے جوار میں مرکز الدعوۃ والارشاد کے خاصے ساتھی موجود ہیں ۔ مرکز الدعوۃ کے ساتھی چاہتے ہیں کہ ان مساجد میں خاص نبوی منہج دعوت و جہاد پیش کیا جائے ، لیکن ان مساجد کے منتظمین رکاوٹ ہیں جبکہ مرکز الدعوۃ والارشاد کے ساتھیوں کو بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ الزامات بے بنیاد بھی دیتے ہیں ۔ ہر وقت اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں زیادہ حالات خراب نہ ہو جائیں ، اس خدشہ کے پیش نظر مرکز الدعوۃ والارشاد کے ساتھی اپنی الگ مسجد کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ حالات زیادہ خراب ہونے سے بچا جائے ۔ اس بنیاد پر بنائی گئی مسجد کی شرعی کیا حیثیت ہو گی؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں۔

________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مندرجہ بالا وجوہات کی بنا ء پر مسجد الگ بنانا شرعاً درست نہیں۔

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)