فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2561
(184) نقش ونگار والے جائے نماز
شروع از بتاریخ : 17 February 2013 02:53 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک دفعہ جامعہ محمدیہ چوک نیائیں میں نمازِ ظہر پڑھنے کا موقع ملا ۔ مسجد کے تغیرات کو دیکھا تو دل بہت خوش ہوا لیکن جب صفوں کی طرف نظر پڑی تو پھر دل کو ضرور پریشانی ہوئی وہ اس طرح کہ یہ جو قالین صفوں میں بنا ہوا خوبصورت ڈالا گیا اس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں ۔ یہاں پاؤں رکھے جاتے ہیں وہاں جانور کی خالص فوٹو ہے ، آپ بھی اس پر غور کرنا اسی طرح کا قالین سپر ایشیا کی مسجد میں ڈالا ہوا ہے ۔ وہاں پر تو میں نے مولانا محمد مالک بھنڈر صاحب کی توجہ اس طرف کرائی تھی۔

_________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے جامع مسجد چوک نیائیں کے ہال میں بچھے ہوئے قالین پر تصویروں کی طرف توجہ دلائی ، آپ سے پہلے بھی ایک دو دوستوں نے توجہ اس طرف مبذول کروائی تھی اور جماعت والوں کا پروگرام پہلے سے ہی تھا کہ اس نقش و نگار والے قالین کو نکال کر سادہ قالین بچھائیں گے ان شاء اللہ الحنان۔ ادھر آپ کا مکتوب بھی پہنچ گیا تو اس بندۂ فقیر الی اللہ الغنی نے آپ کا مکتوب انتظامیہ والوں کو سنا دیا پہلے بھی وقتا فوقتاً سناتا رہتا تھا کہ نقش و نگار والے کپڑے کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، پھر اس نقش کو دور کروا دیا۔
تو اب کے آپ کا مکتوب کویت کے حوالہ سے جب سنایا تو انہوں نے موجودہ قالین مسجد سے نکال دیا ہے اور ڈب کی بنی ہوئی عام صفیں بچھا دی ہیں اور عہد کیا ہے کہ آیندہ نیا قالین بالکل سادہ ڈالیں گے جس میں بیل بوٹے ، نقش و نگار اورتصویریں وغیرہ ایسی کوئی شے نہیں ہوگی ۔[مسجد آمنہ سپر ایشیا میں ایسی چٹائیوں کا انتظام ہو چکا ہے جو نقش و نگار ، بیل بوٹے اور تصویروں کے بغیر ہیں ۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ ان شاء اللہ العزیز الحکیم     

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)