فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 25591
(1048) عید کے دو خطبے یا ایک …؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 March 2018 02:01 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عید کے دو خطبے دینے جائز ہیں یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عمومی صحیح احادیث کے ظواہر کی بناء پر اصلاً خطبۂ عید صرف ایک ہے۔ اضافہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ بعض علماء بعض ضعیف آثار کے پیشِ نظر اور جمعہ پر قیاس کرتے ہوئے، دو خطبوں کے قائل ہیں اور صاحب ’’المرعاۃ‘‘ فرماتے ہیں:

’ ثُمَّ خَطَبَ فِیهِ دَلِیلٌ عَلٰی مَشرُوعِیَّةِ خُطبَةِ العِیدِ وَ لَیسَ فِیهِ خُطبَتَانِ، کَالجُمُعَةِ، وَ أَنَّهٗ  یَقعُدُ بَینَهُمَا. وَ لَم یَثبُت ذٰلِكَ مِن فِعلِهٖ ﷺ بِسَنَدٍ مُعتَبَرٍ‘ (۲/۳۳۰)
  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:835

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)